تذکرة الشہادتین — Page 54
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۵۴ تذكرة الشهادتين لیتے ہیں۔ اب ہم اس دردناک واقعہ کا باقی حصہ اپنی جماعت کے لئے لکھ کر اس مضمون کو ختم کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ جب چار مہینے قید کے گزر گئے ۔ تب امیر نے اپنے رو برو شہید مرحوم کو بلا کر پھر اپنی عام کچہری میں تو بہ کے لئے فہمائش کی اور بڑے زور سے رغبت دی کہ اگر تم اب بھی قادیانی کی تصدیق اور اُس کے اصولوں کی تصدیق سے میرے روبرو انکار کرو تو تمہاری جان بخشی کی جائے گی اور تم عزت کے ساتھ چھوڑے جاؤ گے۔ شہید مرحوم نے جواب دیا کہ یہ تو غیر ممکن ہے کہ میں سچائی سے تو بہ کرو۔ اس دنیا کے حکام کا عذاب تو موت تک ختم ہو جاتا ہے لیکن میں اُس سے ڈرتا ہوں جس کا عذاب بھی ختم نہیں ہو سکتا۔ ہاں چونکہ میں بیچ پر ہوں اس لئے چاہتا ہوں کہ ان مولویوں سے جو میرے عقیدہ کے مخالف ہیں میری بحث کرائی جائے ۔ اگر میں دلائل کے رو سے جھوٹا نکلا تو مجھے سزا دی جائے۔ راوی اس قصہ کے کہتے ہیں کہ ہم اس گفتگو کے وقت موجود تھے ۔ امیر نے اس بات کو پسند کیا اور مسجد شاہی میں خان ملا خان اور آٹھ مفتی بحث کے لئے منتخب کئے گئے۔ اور ایک لاہوری ڈاکٹر جو خود پنجابی ہونے کی وجہ سے سخت مخالف تھا بطور ثالث کے مقرر کر کے بھیجا گیا۔ بحث کے وقت مجمع کثیر تھا اور دیکھنے والے کہتے ہیں کہ ہم اُس بحث کے وقت موجود تھے۔ مباحثہ تحریری تھا صرف تحریر ہوتی تھی۔ اور کوئی بات حاضرین کو سنائی نہیں جاتی تھی۔ اس لئے اُس مباحثہ کا کچھ حال معلوم نہیں ہوا۔ سات بجے صبح سے تین بجے سہ پہر تک مباحثہ جاری رہا۔ پھر جب عصر کا آخری وقت ہوا تو کفر کا فتویٰ لگایا گیا۔ اور آخر بحث میں شہید مرحوم سے یہ بھی پوچھا گیا کہ اگر مسیح موعود یہی قادیانی شخص ہے تو پھر تم عیسی علیہ السلام کی نسبت کیا کہتے ہو۔ کیا وہ واپس دنیا میں آئیں گے یا نہیں تو انہوں نے بڑی استقامت سے جواب دیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اب وہ ہرگز واپس نہیں آئیں گے ۔ قرآن کریم اُن کے مرنے اور واپس نہ آنے کا گواہ ہے۔ تب تو وہ لوگ ان مولویوں کی طرح جنہوں نے حضرت عیسی کی بات کو سن کر اپنے کپڑے پھاڑ دیئے تھے گالیاں دینے لگے اور کہا اب اس شخص کے کفر میں کیا شک رہا۔ اور بڑی غضبناک حالت میں یہ کفر کا فتویٰ لکھا گیا۔ پھر بعد اس کے اخوند زادہ حضرت شہید مرحوم اسی طرح پابز بخیر ہونے کی حالت میں قید خانہ میں بھیجے گئے اور اس جگہ یہ بات بیان کرنے سے رہ گئی ہے کہ جب شاہزادہ مرحوم کی اُن