تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 53 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 53

۵۳ روحانی خزائن جلد ۲۰ تذكرة الشهادتين تب آپ عزت کے ساتھ رہا کر دئیے جاؤ گے۔ اور اسی نیت سے اس نے شہید مرحوم کو اس قلعہ میں قید کیا تھا جس قلعہ میں وہ آپ رہتا تھا تا متواتر فہمائیش کا موقعہ ملتا رہے۔ اور اس جگہ ایک اور بات لکھنے کے لائق ہے۔ اور دراصل وہی ایک بات ہے جو اس بلا کی موجب ہوئی اور وہ یہ ہے کہ عبدالرحمن شہید کے وقت سے یہ بات امیر اور مولویوں کو خوب معلوم تھی کہ قادیانی جو مسیح موعود کا دعوی کرتا ہے جہاد کا سخت مخالف ہے۔ اور اپنی کتابوں میں بار بار اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس زمانہ میں تلوار کا جہاد درست نہیں اور اتفاق سے اس امیر کے باپ نے جہاد کے واجب ہونے کے بارے میں ایک رسالہ لکھا تھا جو میرے شائع کردہ رسالوں کے بالکل مخالف ہے اور پنجاب کے شر انگیز بعض آدمی جو اپنے تئیں موحد یا اہل حدیث کے نام سے موسوم کرتے تھے امیر کے پاس پہنچ گئے تھے۔ غالباً اُن کی زبانی امیر عبدالرحمن نے جو امیر حال کا باپ تھا میری اُن کتابوں کا مضمون سن لیا ہو گا اور عبد الرحمن شہید کے قتل کی بھی یہی وجہ ہوئی تھی کہ امیر عبد الرحمن نے خیال کیا تھا کہ یہ اُس گروہ کا انسان ہے جو لوگ جہاد کو حرام جانتے ہیں۔ اور یہ بات یقینی ہے کہ قضا و قدر کی کشش سے مولوی عبداللطیف مرحوم سے بھی یہ غلطی ہوئی کہ اس قید کی حالت میں بھی جتلا دیا کہ اب یہ زمانہ جہاد کا نہیں اور وہ مسیح موعود جو در حقیقت مسیح ہے اس کی یہی تعلیم ہے کہ اب یہ زمانہ دلائل کے پیش کرنے کا ہے تلوار کے ذریعہ سے مذہب کو پھیلانا جائز نہیں ۔ اور اب اس قسم کا پودہ ہرگز بارور نہیں ہوگا بلکہ جلد خشک ہو جائے گا۔ چونکہ شہید مرحوم سچ کے بیان کرنے میں کسی کی پروا نہیں کرتے تھے ۔ اور در حقیقت اُن کو سچائی کے پھیلانے کے وقت اپنی موت کا بھی اندیشہ نہ تھا۔ اس لئے ایسے الفاظ اُن کے منہ سے نکل گئے اور عجیب بات یہ ہے کہ اُن کے بعض شاگرد بیان کرتے ہیں کہ جب وہ وطن کی طرف روانہ ہوئے تو بار بار کہتے تھے کہ کابل کی زمین اپنی اصلاح کے لئے میرے خون کی محتاج ہے۔ اور درحقیقت وہ سچ کہتے تھے کیونکہ سرزمین کا بل میں اگر ایک کروڑ اشتہار شائع کیا جاتا۔ اور دلائل قویہ سے میرا مسیح موعود ہونا اُن میں ثابت کیا جاتا تو اُن اشتہارات کا ہرگز ایسا اثر نہ ہوتا جیسا کہ اس شہید کے خون کا اثر ہوا۔ کابل کی سرزمین پر یہ خون اُس تخم کی مانند پڑا ہے جو تھوڑے عرصہ میں بڑا درخت بن جاتا ہے۔ اور ہزار ہا پرندے اس پر اپنا بسیرا