تذکرة الشہادتین — Page 49
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۹ تذكرة الشهادتين بیان واقعہ ہائکہ شہادت مولوی صاحبزادہ عبداللطیف صاحب مرحوم رئیس اعظم خوست علاقہ کابل غفر الله له ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ مولوی صاحب خوست علاقہ کا بل سے قادیان میں آ کر کئی مہینہ میرے پاس اور میری صحبت میں رہے۔ پھر بعد اس کے جب آسمان پر یہ امر قطعی طور پر فیصلہ پاچکا۔ کہ وہ درجہ شہادت پاویں تو اُس کے لئے یہ تقریب پیدا ہوئی کہ وہ مجھ سے رخصت ہو کر اپنے وطن کی طرف واپس تشریف لے گئے ۔ اب جیسا کہ معتبر ذرائع سے اور خاص دیکھنے والوں کی معرفت مجھے معلوم ہوا ہے قضا و قدر سے یہ صورت پیش آئی کہ مولوی صاحب جب سرزمین علاقہ ریاست کابل کے نزدیک پہنچے تو علاقہ انگریزی میں ٹھہر کر بر گیڈیر محمد حسین کو توال کو جو اُن کا شاگرد تھا ایک خط لکھا کہ اگر آپ امیر صاحب سے میرے آنے کی اجازت حاصل کر کے مجھے اطلاع دیں تو امیر صاحب کے پاس بمقام کابل میں حاضر ہو جاؤں۔ بلا اجازت اس لئے تشریف نہ لے گئے کہ وقت سفر امیر صاحب کو یہ اطلاع دی تھی کہ میں حج کو جاتا ہوں مگر وہ ارادہ قادیان میں بہت دیر تک ٹھہرنے سے پورا نہ ہو سکا اور وقت ہاتھ سے جاتا رہا۔ اور چونکہ وہ میری نسبت شناخت کر چکے تھے کہ یہی شخص مسیح موعود ہے۔ اس لئے میری صحبت میں رہنا اُن کو مقدم معلوم ہوا۔ اور ہمو جب نص أطِيعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ - حج کا ارادہ انہوں نے کسی دوسرے سال پر ڈال دیا۔ اور ہر ایک دل اس بات کو محسوس کر سکتا ہے کہ ایک حج کے ارادہ کرنے والے کے لئے اگر یہ بات پیش آ جائے کہ وہ اس مسیح موعود کو دیکھ لے جس کا تیرہ سو برس سے اہل اسلام میں انتظار ہے۔ تو بموجب نص صریح قرآن اور احادیث کے وہ بغیر اس کی اجازت کے حج کو نہیں جا سکتا ۔ ہاں باجازت اس کے دوسرے وقت میں جا سکتا ہے۔ غرض چونکہ وہ مرحوم سید الشہداء اپنی صحت نیت سے حج نہ کر سکا اور قادیان میں ہی دن گزر گئے۔ تو قبل اس کے کہ وہ سرزمین کا بل میں وارد ہوں اور حد و دریاست کے اندر قدم رکھیں احتیاطاً قرین مصلحت سمجھا کہ انگریزی علاقہ میں رہ کر امیر کا بل پر اپنی سرگذشت کھول دی (۲۸) النساء : ٦٠