تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 48 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 48

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۸ تذكرة الشهادتين (۴۶) میاں عبدالرحمن شاگرد رشید اُن کے قادیان میں شاید دو یا تین دفعہ آئے اور ہر ایک مرتبہ کئی کئی مہینہ تک رہے اور متواتر صحبت اور تعلیم اور دلائل کے سننے سے اُن کا ایمان شہداء کا رنگ پکڑ گیا اور آخری دفعہ جب کا بل واپس گئے تو وہ میری تعلیم سے پورا حصہ لے چکے تھے اور اتفاقاً اُن کی حاضری کے ایام میں بعض کتابیں میری طرف سے جہاد کی ممانعت میں چھپی تھیں جن سے اُن کو یقین ہو گیا تھا کہ یہ سلسلہ جہاد کا مخالف ہے۔ پھر ایسا اتفاق ہوا کہ جب وہ مجھ سے رخصت ہو کر پشاور میں پہنچے تو اتفاقا خواجہ کمال الدین صاحب پلیڈر سے جو پشاور میں تھے اور میرے مرید ہیں ملاقات ہوئی۔ اور انہیں دنوں میں خواجہ کمال الدین صاحب نے ایک رسالہ جہاد کی ممانعت میں شائع کیا تھا۔ اس سے اُن کو بھی اطلاع ہوئی۔ اور وہ مضمون ایسا اُن کے دل میں بیٹھ گیا کہ کابل میں جا کر جابجا اُنہوں نے یہ ذکر شروع کیا کہ انگریزوں سے جہاد کرنا درست نہیں کیونکہ وہ ایک کثیر گروہ مسلمانوں کے حامی ہیں اور کئی کروڑ مسلمان امن و عافیت سے اُن کے زیر سایہ زندگی بسر کرتے ہیں ۔ تب یہ خبر رفتہ رفتہ امیر عبدالرحمن کو پہنچ گئی ۔ اور یہ بھی بعض شریر پنجابیوں نے جو اس کے ساتھ ملازمت کا تعلق رکھتے ہیں۔ اس پر ظاہر کیا کہ یہ ایک پنجابی شخص کا مرید ہے جو اپنے تئیں مسیح موعود ظاہر کرتا ہے۔ اور اُس کی یہ بھی تعلیم ہے کہ انگریزوں سے جہاد درست نہیں بلکہ اس زمانہ میں قطعاً جہاد کا مخالف ہے۔ تب امیر یہ بات سن کر بہت برافروختہ ہو گیا اور اُس کو قید کرنے کا حکم دیا تا مزید تحقیقات سے کچھ زیادہ حال معلوم ہو۔ آخر یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ ضرور یہ شخص مسیح قادیانی کا مرید اور مسئلہ جہاد کا مخالف ہے۔ تب اُس مظلوم کو گردن میں کپڑا ڈال کر اور دم بند کر کے شہید کیا گیا۔ کہتے ہیں کہ اس کی شہادت کے وقت بعض آسمانی نشان ظاہر ہوئے۔ یہ تو میاں عبدالرحمن شہید کا ذکر ہے ۔ اب ہم مولوی صاحبزادہ عبداللطیف کی شہادت کا دردناک ذکر کرتے ہیں اور اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہیں کہ اس قسم کا ایمان حاصل کرنے کے لئے دعا کرتے رہیں کیونکہ جب تک انسان کچھ خدا کا اور کچھ دنیا کا ہے تب تک آسمان پر اُس کا نام مومن نہیں۔