تذکرة الشہادتین — Page 47
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۷ تذكرة الشهادتين ا تفسیر اور فقہ اور تاریخ کا اپنے پاس رکھتے تھے۔ اور نئی کتابوں کے خریدنے کے لئے ہمیشہ حریص تھے۔ اور ہمیشہ درس تدریس کا شغل جاری تھا ۔ اور صدہا آدمی اُن کی شاگردی کا فخر حاصل کر کے مولویت کا خطاب پاتے تھے لیکن با ایں ہمہ کمال یہ تھا کہ بے نفسی اور انکسار میں اس بے نفسی اور انکسار میں اس مرتبہ تک پہنچ ۴۵) گئے تھے کہ جب تک انسان فنافی اللہ نہ ہو یہ مرتبہ نہیں پاسکتا۔ ہر ایک شخص کسی قدر شہرت اور علم سے محجوب ہو جاتا ہے۔ اور ا اپنے تئیں کچھ چیز سمجھنے لگتا ہے۔ اور وہی علم اور شہرت حق طلبی سے اُس کو مانع ہو جاتی ہے مگر یہ شخص ایک ایسا بے نفس تھا کہ باوجود یکہ ایک مجموعہ فضائل کا جامع تھا مگر تب بھی کسی حقیقت حقہ کے قبول کرنے سے اُس کو اپنی علمی اور عملی اور خاندانی وجاہت مانع نہیں ہو سکتی تھی۔ اور آخر سچائی پر اپنی جان قربان کی اور ہماری جماعت کے لئے ایسا نمونہ چھوڑ گیا جس کی پابندی اصل منشاء خدا کا ہے۔ اب ہم ذیل میں اس بزرگ کی شہادت کے واقعہ کو لکھتے ہیں کہ کسی دردناک طریق سے وہ قتل کیا گیا اور اس راہ میں کیا استقامت اُس نے دکھلائی کہ بجز کامل قوت ایمانی کے اس دار الغرور میں کوئی نہیں دکھلا سکتا۔ اور بالآخر ہم یہ بھی لکھیں گے کہ ضرور تھا کہ ایسا ہی ہوتا کیونکہ آج سے تئیس برس پہلے اُن کی شہادت اور ان کے ایک شاگرد کی شہادت کی نسبت خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی تھی جس کو اُسی زمانہ میں میں نے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں شائع کیا تھا۔ سو اس بزرگ مرحوم نے نہ فقط وہ نشان دکھلایا جو کامل استقامت کے رنگ میں اُس سے ظہور میں آیا بلکہ یہ دوسرا نشان بھی اُس کے ذریعہ سے ظاہر ہو گیا جو ایک مدت دراز کی پیشگوئی اس کی شہادت سے پوری ہو گئی جیسا کہ ہم انشاء اللہ اخیر میں اس پیشگوئی کو درج کریں گے۔ واضح رہے کہ براہین احمدیہ کی پیشگوئی میں دو شہادتوں کا ذکر ہے۔ اور پہلی شہادت میاں عبد الرحمن مولوی صاحب موصوف کے شاگرد کی تھی۔ جس کی تکمیل امیر عبدالرحمن یعنی اس امیر کے باپ سے ہوئی۔ اس لئے ہم بلحاظ ترتیب زمانی پہلے میاں عبدالرحمن مرحوم کی شہادت کا ذکر کرتے ہیں۔ بیان شہادت میاں عبد الرحمن مرحوم شاگرد مولوی صاحبزادہ عبداللطیف صاحب رئیس اعظم خوست ملک افغانستان مولوی صاحبزادہ عبداللطیف صاحب مرحوم کی شہادت سے تخمینا دو برس پہلے اُن کے ایما اور ہدایت سے