تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 46 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 46

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۶ تذكرة الشهادتين کیونکہ احمد نبی ہے۔ نبوت اس سے منفک نہیں ہو سکتی ۔ اور ایک دفعہ یہ ذکر آیا کہ احادیث میں ہے که مسیح موعود دو زرد رنگ چادروں میں اترے گا۔ ایک چادر بدن کے اوپر کے حصہ میں ہوگی اور (۲۳) دوسری چادر بدن کے نیچے کے حصہ میں۔ سو میں نے کہا کہ یہ اس طرف اشارہ تھا کہ مسیح موعود دو بیماریوں کے ساتھ ظاہر ہوگا کیونکہ تعبیر کے علم میں زرد کپڑے سے مراد بیماری ہے۔ اور وہ دونوں بیماریاں مجھ میں ہیں یعنی ایک سر کی بیماری اور دوسری کثرت پیشاب اور دستوں کی بیماری۔ ابھی وہ اسی جگہ تھے کہ بہت سے یقین اور بھاری تبدیلی کی وجہ سے اُن پر الہام اور وحی کا دروازہ کھولا گیا۔ اور خدا تعالیٰ کی طرف سے کھلے لفظوں میں میری تصدیق کے بارے میں انہوں نے شہادتیں پائیں جن کی وجہ سے آخر کار انہوں نے اس شہادت کا شربت اپنے لئے منظور کیا جس کے مفصل لکھنے کے لئے اب وقت آگیا ہے۔ یقیناً یا درکھو کہ جس طرز سے انہوں نے میری تصدیق کی راہ میں مرنا قبول کیا اس قسم کی موت اسلام کے تیرہ سو برس کے سلسلہ میں بجز نمونہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اور کسی جگہ نہیں پاؤ گے۔ پس بلا شبہ اس طرح ان کا مرنا اور میری تصدیق میں نقد جان خدا تعالیٰ کے حوالہ کرنا یہ میری سچائی پر ایک عظیم الشان نشان ہے مگر اُن کے لئے جو سمجھ رکھتے ہیں۔ انسان شک و شبہ کی حالت میں کب چاہتا ہے کہ اپنی جان دے دے اور اپنی بیوی اور اپنے بچوں کو تباہی میں ڈالے۔ پھر عجب تریہ کہ یہ بزرگ معمولی انسان نہیں تھا بلکہ ریاست کا بل میں کئی لاکھ کی ان کی اپنی جاگیر تھی اور انگریزی عملداری میں بھی بہت سی زمین تھی۔ اور طاقت علمی اس درجہ تک تھی کہ ریاست نے تمام مولویوں کا ان کو سردار قرار دیا تھا۔ وہ سب سے زیادہ عالم علم قرآن اور حدیث اور فقہ میں سمجھے جاتے تھے اور نئے امیر کی دستار بندی کی رسم بھی انہیں کے ہاتھ سے ہوتی تھی۔ اور اگر امیر فوت ہو جائے تو اُس کے جنازہ پڑھنے کے لئے بھی وہی مقرر تھے۔ یہ وہ باتیں ہیں جو ہمیں معتبر ذریعہ سے پہنچی ہیں۔ اور اُن کی خاص زبان سے میں نے سنا تھا کہ ریاست کا بل میں پچاس ہزار کے قریب اُن کے معتقد اور ارادت مند ہیں جن میں سے بعض ارکان ریاست بھی تھے۔ غرض یہ بزرگ ملک کابل میں ایک فرد تھا۔ اور کیا علم کے لحاظ سے اور کیا تقومی کے لحاظ سے اور کیا جاہ اور مرتبہ کے لحاظ سے اور کیا خاندان کے لحاظ سے اُس ملک میں اپنی نظیر نہیں رکھتا تھا۔ اور علاوہ مولوی کے خطاب کے صاحبزادہ اور اخون زادہ اور شاہزادہ کے لقب سے اُس ملک میں مشہور تھے۔ اور شہید مرحوم ایک بڑا کتب خانہ حدیث اور