تذکرة الشہادتین — Page 45
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۵ تذكرة الشهادتين سوچ لو کہ ہر ایک بلا جو خدا کے علم میں ہے اگر کسی نبی یا ولی کو اس کی اطلاع دی جائے تو اس کا نام اُس وقت پیشگوئی ہو گا جب وہ نبی یا ولی دوسروں کو اُس بلا سے اطلاع دے اور یہ ثابت شدہ بات ہے کہ بلائل سکتی ہے۔ پس ضرور تا یہ نتیجہ نکلا کہ ایسی پیشگوئی کے ظہور میں تاخیر ہو سکتی ہے ﴿۴۳) جو کسی بلا کی پیش خبری کرے۔ پھر ہم اپنے پہلے کلام کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ مولوی صاحبزادہ عبداللطیف صاحب جب قادیان میں آئے تو صرف ان کو یہی فائدہ نہ ہوا کہ انہوں نے مفصل طور پر میرے دعوے کے دلائل سنے بلکہ اُن چند مہینوں کے عرصہ میں جو وہ قادیان میں میرے پاس رہے اور ایک سفر جہلم تک بھی میرے ساتھ کیا۔ بعض آسمانی نشان بھی میری تائید میں انہوں نے مشاہدہ کئے ۔ ان تمام براہین اور انوار اور خوارق کے دیکھنے کی وجہ سے وہ فوق العادت یقین سے بھر گئے ۔ اور طاقت بالا اُن کو بینچ کر لے گئی۔ میں نے ایک موقعہ پر ایک اعتراض کا جواب بھی اُن کو سمجھایا تھا جس سے وہ بہت خوش ہوئے تھے۔ اور وہ یہ کہ جس حالت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ ہیں ۔ اور آپ کے خلفاء مثیل انبیاء بنی اسرائیل ہیں تو پھر کیا وجہ کہ مسیح موعود کا نام احادیث میں نبی کر کے پکارا گیا ہے مگر دوسرے تمام خلفاء کو یہ نام نہیں دیا گیا۔ سو میں نے اُن کو یہ جواب دیا کہ جب کہ آنحضرت صلی اللہ خاتم الانبیاء تھے اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں تھا۔ اس لئے اگر تمام خلفاء کو نبی کے نام سے پکارا جاتا تو امر ختم نبوت مشتبہ ہو جاتا اور اگر کسی ایک فرد کو بھی نبی کے نام سے نہ پکارا جاتا تو عدم مشابہت کا اعتراض باقی رہ جاتا کیونکہ موسی کے خلفاء نبی ہیں۔ اس لئے حکمت الہی نے یہ تقاضا کیا کہ پہلے بہت سے خلفاء کو برعایت ختم نبوت بھیجا جائے اور اُن کا نام نبی نہ رکھا جائے اور یہ مرتبہ ان کو نہ دیا جائے تاختم نبوت پر یہ نشان ہو۔ پھر آخری خلیفہ یعنی مسیح موعود کو نبی کے نام سے پکارا جائے تا خلافت کے امر میں دونوں سلسلوں کی مشابہت ثابت ہو جائے۔ اور ہم کئی دفعہ بیان کر چکے ہیں کہ مسیح موعود کی نبوت خالی طور پر ہے کیونکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز کامل ہونے کی وجہ سے نفس نبی سے مستفیض ہو کر نبی کہلانے کا مستحق ہو گیا ہے۔ جیسا کہ ایک وحی میں خدا تعالیٰ نے مجھ کو مخاطب کر کے فرمایا تھا۔ یا احمد جُعلت مرسلا ۔ اے احمد تو مرسل بنایا گیا یعنی جیسے کہ تو بروزی رنگ میں احمد کے نام کا مستحق ہوا حالانکہ تیرا نام غلام احمد تھا سو اسی طرح بروز کے رنگ میں نبی کے نام کا مستحق ہے۔