تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 44 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 44

۴۴ تذكرة الشهادتين روحانی خزائن جلد ۲۰ مقابل پر اُس شخص کی پیشگوئیوں کو جس کا آسمان سے اتر نا خیال کرتے ہیں۔ صفائی اور یقین ۲۲) اور ہداہت کے مرتبہ پر زیادہ ثابت کر سکے تو میں اُس کو نقد ایک ہزار روپیہ دینے کو طیار ہوں مگر ثابت کرنے کا یہ طریق نہیں ہوگا کہ وہ قرآن شریف کو پیش کرے کہ قرآن کریم نے حضرت عیسی علیہ السلام کو نبی مان لیا ہے اور یا اس کو نبی قرار دے دیا ہے کیونکہ اس طرح پر تو میں بھی زور سے دعوی کرتا ہوں کہ قرآن شریف میری سچائی کا بھی گواہ ہے۔ تمام قرآن شریف میں کہیں یسوع کا لفظ نہیں ہے مگر میری نسبت منکم کا لفظ موجود ہے اور دوسرے بہت سے علامات موجود ہیں بلکہ اس جگہ میرا صرف یہ مطلب ہے کہ قرآن شریف سے قطع نظر کر کے محض میری پیشگوئیوں اور یسوع کی پیشگوئیوں پر عدالتوں کی عام تحقیق کے رنگ میں نظر ڈالی جائے اور دیکھا جائے کہ ان دونوں میں سے کون سی پیشگوئیاں یا اکثر حصہ اُن کا بحکم عقل کمال صفائی سے پورا ہو گیا اور کون سا اس درجہ پر نہیں یعنی یہ تحقیقات اور مقابلہ ایسے طور سے ہونا چاہیے کہ اگر کوئی شخص قرآن شریف سے منکر ہو تو وہ بھی رائے ظاہر کر سکے کہ ثبوت کا پہلو کس طرف ہے۔ ماسوا اس کے اس جگہ مجھے افسوس آتا ہے کہ ہمارے مخالف مسلمان تو کہلاتے ہیں لیکن اسلام کے اصول سے بے خبر ہیں۔ اسلام میں یہ مسلم امر ہے کہ جو پیشگوئی وعید کے متعلق ہو اس کی نسبت ضروری نہیں کہ خدا اس کو پورا کرے یعنی جس پیشگوئی کا یہ مضمون ہو کہ کسی شخص یا گروہ پر کوئی بلا پڑے گی۔ اس میں یہ بھی ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ اس بلا کو ٹال دے جیسا کہ یونس کی پیشگوئی کو جو چالیس دن تک محدود تھی ٹال دیا لیکن جس پیشگوئی میں وعدہ ہو یعنی کسی انعام اکرام کی نسبت پیشگوئی ہو وہ کسی طرح ٹل نہیں سکتی ۔ خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ لے مگر کسی جگہ یہ نہیں فرمایا کہ اِنَّ الله لا يخلف الوعيد ۔ پس اس میں راز یہی ہے کہ وعید کی پیشگوئی خوف اور دعا اور صدقہ خیرات سے مل سکتی ہے۔ تمام پیغمبروں کا اس پر اتفاق ہے کہ صدقہ اور دعا اور خوف اور خشوع سے وہ بلا جو خدا کے علم میں ہے جو کسی شخص پر آئے گی وہ رڈ ہو سکتی ہے۔ اب ل ال عمران: ١٠