تذکرة الشہادتین — Page 41
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۱ تذكرة الشهادتين ہو جانا اور میرے وقت میں مسلمانوں کا بہت سے فرقوں پر منقسم ہو کر تنزل کی حالت میں ہونا اور طرح طرح کی بدعات اور شرک اور میخواری اور حرامکاری اور خیانت اور دروغگو ئی دنیا میں شائع ہو کر ایک عام تغییر ده م تغیر دنیا میں پیدا ہو جانا اور ہر ایک پہلو سے انقلاب عظیم انقلاب عظیم اس عالم میں پیدا ہو جانا۔ اور ہر ایک دانشمند کی شہادت سے دنیا کا ایک صلح کا محتاج ہونا۔ اور میرے مقابلہ سے خواہ اعجازی کلام میں اور خواہ آسمانی نشانوں میں تمام لوگوں کا عاجز آجانا اور میری تائید میں خدا تعالیٰ کی لاکھوں پیشگوئیاں پوری ہونا۔ یہ تمام نشان اور علامات اور قرائن ایک خدا ترس کے لئے میرے قبول کرنے ﴿۳۹﴾ کے لئے کافی ہیں ۔ بعض جاہل اس جگہ اعتراض کرتے ہیں کہ بعض پیشگوئیاں پوری نہیں ہوئیں جیسا کہ آتھم کے مرنے کی اور احمد بیگ کے داماد کی پیشگوئی مگر اُن کو خدا تعالیٰ سے شرم کرنی چاہیے کیونکہ جس حالت میں کئی لاکھ پیشگوئی روز روشن کی طرح پوری ہو چکی ہے اور دن بدن نئے نئے نشان ظاہر ہوتے جاتے ہیں تو اس صورت میں اگر ایک دو پیشگوئیاں ان کی سمجھ میں نہیں آئیں تو یہ ان کی سراسر شقاوت ہے کہ باعث اس بد نہی کے جس میں خود ان کا قصور ہے خدا تعالیٰ کے ہزار ہا نشانوں اور دلیلوں اور معجزات سے انکار کر دیں۔ اور اگر اسی طرح پر انکار ہو سکتا ہے تو پھر ہمیں کسی پیغمبر کا پتہ بتلاویں جس کی بعض پیشگوئیوں کے پورا ہونے کی نسبت انکار نہیں کیا گیا۔ چنانچہ ملا کی نبی کی پیشگوئی اپنے ظاہری معنوں کے رو سے اب تک پوری نہیں ہوئی ۔ کہاں الیاس نبی دنیا میں آیا جس کا یہود کو آج تک انتظار ہے حالانکہ مسیح آچکا ہے جس سے پہلے اُس کا آنا ضروری تھا۔ کہاں یہ پیشگوئی مسیح کی پوری ہوئی کہ اس زمانہ کے لوگ ابھی زندہ ہی ہوں گے کہ میں واپس آجاؤں گا۔ کہاں اس کی یہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ پطرس کے ہاتھ میں آسمان کی کنجیاں ہیں ۔ کہاں اُس کی یہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ وہ داؤد کا تخت قائم کرے گا ۔ اور کب یہ پیشگوئی ظہور میں آئی کہ اس کے باراہ حواری باراہ تختوں پر بیٹھیں گے ۔ کیونکہ یہودا اسکر یوطی مرتد ہو گیا اور جہنم میں جاپڑا اور اس کی بجائے جس کے لئے تخت کا وعدہ تھا ایک نیا حواری تراشا گیا جو مسیح کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ ایسا ہی حدیثوں میں لکھا ہے۔ چنانچہ در منثور میں بھی ہے کہ یونس نبی نے یہ پیشگوئی قطعی طور پر بغیر کسی شرط کے کی تھی کہ نینوہ کے رہنے والوں پر چالیس دن کے اندر عذاب نازل ہوگا جو اُن کو اس میعاد کے اندر ہلاک کر دے گا مگر کوئی عذاب نازل نہ ہوا اور نہ وہ ہلاک ہوئے ۔ آخر یونس کو