تذکرة الشہادتین — Page 40
۴۰ روحانی خزائن جلد ۲۰ تذكرة الشهادتين تمام خلیفے اس امت میں سے پیدا ہوں گے اور وہ خلفاء سلسلہ موسوی کے مثیل ہوں گے اور صرف ایک اُن میں سے سلسلہ کے آخر میں موعود ہوگا جو عیسی بن مریم کے مشابہ ہو گا باقی موعود نہیں ہوں گے یعنی نام لے کر اُن کے لئے کوئی پیشگوئی نہیں ہوگی اور یہ منکم کا لفظ بخاری میں بھی موجود ہے اور مسلم میں بھی ہے جس کے یہی معنے ہیں کہ وہ مسیح موعود اسی اُمت میں سے پیدا ہوگا۔ پس اگر ایک غور کرنے والا اس جگہ پورا غور کرے اور طریق خیانت اختیار نہ کرے تو اس کو ان تین منکم کے لفظوں پر نظر ڈالنے سے یقین ہو جائیگا کہ یہ امر امر قطعی فیصلہ تک پہنچ چکا ہے کہ مسیح موعود اسی اُمت میں سے پیدا ہوگا۔ اب رہا میرا دعویٰ سو میرے دعوی کے ساتھ اس قدر دلائل ہیں کہ کوئی انسان تیرا بے حیا نہ ہو تو اُس کے لئے اس سے چارہ نہیں ہے کہ میرے دعوی کو اسی طرح مان لے جیسا کہ اُس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو مانا ہے۔ کیا یہ دلائل میرے دعواے کے ثبوت کے لئے کم ہیں کہ میری نسبت قرآن کریم نے اس قدر پورے پورے قرائن اور علامات کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ ایک طور سے میرا نام بتلا دیا ہے اور حدیثوں میں کدعہ کے لفظ سے میرے گاؤں کا نام موجود ہے اور حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ اس مسیح موعود کی تیرھویں صدی میں پیدائش ہوگی اور چودھویں صدی میں اُس کا ظہور ہوگا۔ اور حیح بخاری میں میرا تمام حلیہ لکھا ہے اور پہلے مسیح کی نسبت جو میرے حلیہ میں فرق ہے وہ ظاہر کر دیا ہے اور ایک حدیث میں صریح یہ اشارہ ہے کہ وہ مسیح موعود ہند میں ہوگا کیونکہ دجال کا بڑا مرکز مشرق یعنی ہند قرار دیا ہے۔ اور یہ بھی لکھا ہے کہ مسیح موعود دمشق سے مشرق کی طرف ظاہر ہو گا۔ سو قادیان دمشق سے مشرق کی طرف ہے اور پھر دعوئی کے وقت میں اور لوگوں کی تکذیب کے دنوں میں آسمان پر رمضان کے مہینہ میں کسوف خسوف ہونا۔ زمین پر طاعون کا پھیلنا۔ حدیث اور قرآن کے مطابق ریل کی سواری پیدا ہو جانا۔ اونٹ بیکار ہو جانے ۔ حج روکا جانا۔ صلیب کے غلبہ کا وقت ہونا۔ میرے ہاتھ پر صد ہا نشانوں کا ظاہر ہونا۔ نبیوں کے مقرر کردہ وقت مسیح موعود کے لئے یہی وقت ہونا۔ صدی کے سر پر میرا مبعوث ہونا ۔ ہزار ہا نیک لوگوں کا میری تصدیق کے لئے خوا ہیں دیکھنا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن شریف کا یہ فرمانا کہ وہ مسیح موعود میری اُمت میں سے پیدا ہوگا اور خدا تعالیٰ کی تائیدات کا میرے شامل حال ہونا اور ہزار ہا لوگوں کا دولاکھ کے قریب میرے ہاتھ پر بیعت کر کے راستبازی اور پاکدلی اختیار کرنا۔ اور میرے وقت میں عیسائی مذہب میں ایک عام تزلزل پڑنا یہاں تک کہ تثلیث کی طلسم کا برف کی طرح گداز ہونا شروع