تذکرة الشہادتین — Page 39
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۹ تذكرة الشهادتين ای اُمت سے مسیح موعود ہونا چاہیے جس سے مجھے بہت تعجب ہوا اور اس وقت شعر حسن ز بصرہ بلال از حبش یاد آیا۔ اور اکثر ان کا استدلال قرآن شریف سے تھا اور وہ بار بار کہتے تھے کہ کیسے نادان وہ لوگ ہیں جن کا خیال ہے کہ مسیح موعود کی پیشگوئی صرف حدیثوں میں ہے حالانکہ جس قدر قرآن شریف سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عیسی فوت ہو گیا اور مسیح موعود اسی اُمت میں سے آنے والا ہے اس قدر ثبوت حدیثوں سے نہیں ملتا۔ غرض خدا تعالیٰ نے اُن کے دل کو حق الیقین سے پُر کر دیا تھا اور وہ پوری معرفت سے اس طرح پر مجھے شناخت کرتے تھے جس طرح در حقیقت ایک شخص کو آسمان سے اتر تامع فرشتوں کے دیکھا جاتا ہے۔اس وقت سے مجھے یہ خیال آیا ہے کہ حدیثوں میں جو سیح موعود کے نزول کا ذکر ہے اگر چہ یہ لفظ اکرام اور اعزاز کے لئے محاورہ عرب میں آتا ہے جیسا کہ کہتے ہیں کہ فلاں لشکر فلاں جگہ اُترا ہے اور جیسا کہ کسی شہر کے نو وارد کو کہا جاتا ہے کہ آپ کہاں اترے ہیں اور جیسا کہ قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے ہی اس رسول کو اُتارا ہے اور جیسا کہ انجیل میں آیا ہے کہ عیسی اور بیچی آسمان سے اترے لیکن با ایں ہمہ یہ نزول کا لفظ اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ اس قدر اس مسیح کی سچائی پر دلائل جمع ہو جائیں گے کہ اہل فراست کو اس کے مسیح موعود ہونے میں یقین نام ہو جائے گا گویاوہ ان کے روبرو آسمان سے ہی اُترا ہے۔ چنانچہ ایسے یقین کامل کا نمونہ شہزادہ مولوی عبداللطیف شہید نے دکھا دیا۔ جان دینے سے بڑھ کر کوئی امر نہیں اور ایسی استقامت سے جان دینا صاف بتلا رہا ہے کہ انہوں نے مجھے آسمان سے اترتے دیکھ لیا اور دوسرے لوگوں کے لئے بھی یہ امر صاف ہے کہ میرے دعوی کے تمام پہلو آفتاب کی طرح چمک رہے ہیں۔ اول قرآن شریف نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ عیسی بن مریم فوت ہو گیا ہے اور پھر دنیا میں نہیں آئے گا۔ اور اگر بفرض محال قرآن کریم کے مخالف ایک لاکھ حدیث بھی ہو وہ سب باطل اور جھوٹ اور کسی باطل پرست کی بناوٹ ہے۔ حق وہی ہے جو قرآن نے فرمایا۔ اور حدیثیں وہ ماننے کے لائق ہیں جو اپنے قصوں میں قرآن کے بیان کردہ قصوں سے مخالف نہیں پھر بعد اس کے یہ فیصلہ بھی قرآن شریف نے ہی سورۃ نور میں لفظ منکم کے ساتھ ہی کر دیا ہے کہ اس دین کے (۳۸)