تذکرة الشہادتین — Page 38
روحانی خزائن جلد ۲۰ ٣٨ تذكرة الشهادتين ہوگا اور باپ کا نام عبد اللہ اور دادا کا نام عبد المطلب اور مکہ میں پیدا ہوگا اور مدینہ اُس کی ہجرت گاہ ہوگی مگر خدا تعالیٰ نے یہ نہ لکھا کیونکہ ایسی پیشگوئیوں میں کچھ امتحان بھی منظور ہوتا ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ مسیح موعود کے لئے پہلے سے خبر دی گئی ہے کہ وہ اسلام کے مختلف فرقوں کے لئے بطور حکم کے آئے گا۔ اب ظاہر ہے کہ ہر ایک فرقہ کی جدا جدا حدیثیں ہیں۔ پس یہ کیونکر ممکن ہو کہ سب کے خیالات کی وہ تصدیق کرے۔ اگر اہل حدیث کی تصدیق کرے تو حنفی ناراض ہوں گے۔ اگر حنفیوں کی تصدیق کرے تو شافعی بگڑ جائیں گے ۔ اور شیعہ جدا یہ اصول ٹھہرائیں گے کہ اُن کے عقیدہ کے موافق وہ ظاہر ہو ۔ اس صورت میں وہ کیونکر سب کو خوش کر سکتا ہے ۔ علاوہ اس کے خود حکم کا لفظ چاہتا ہے کہ وہ ایسے وقت میں آئے گا کہ جب تمام فرقے کچھ نہ کچھ حق سے دور جا پڑیں گے۔ اس صورت میں اپنی اپنی حدیثوں کے ساتھ اُس کو آزمانا سخت غلطی ہے بلکہ قاعدہ یہ چاہیے کہ جو نشان اور قرار داده علامتیں اس کے وقت میں ظاہر ہو جائیں اُن سے فائدہ اُٹھا ئیں اور باقی کو موضوع اور انسانی افترا سمجھیں، یہی قاعدہ ان نیک بخت یہودیوں نے برتا جو مسلمان ہو گئے تھے کیونکہ جو جو باتیں مقرر کردہ احادیث یہود وقوع میں آگئیں اور آنحضرت پر صادق آگئیں ۔ ان حدیثوں کو انہوں نے صحیح سمجھا اور جو پوری نہ ہوئیں ان کو موضوع قرار دیا۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو پھر نہ حضرت عیسی کی نبوت یہودیوں کے نزدیک ثابت ہو سکتی نہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت۔ جو لوگ مسلمان ہوئے تھے انہیں یہود کی صد با جھوٹی حدیثوں کو چھوڑنا پڑا۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ایک طرف بعض علامات قرار دادہ پوری ہوگئیں اور ایک طرف تائیدات الہیہ کا خدا کے رسول میں ایک دریا جاری ہے تو انہوں نے ان حدیثوں سے فائدہ اُٹھایا جو پوری ہو گئیں اگر ایسا نہ کرتے تو ایک شخص بھی اُن میں سے مسلمان نہ ہو سکتا۔ سیہ تمام وہ باتیں ہیں کہ کئی دفعہ اور کئی پیرایوں میں میں نے مولوی عبد اللطیف صاحب کو سنائی تھیں اور تعجب کہ انہوں نے میرے پاس بیان کیا کہ یہ باتیں پہلے سے میرے علم میں ہیں اور بہت سے ایسے عجیب دلائل حضرت مسیح کی وفات اور اس بات پر سُنائے کہ اسی زمانہ میں اور