تذکرة الشہادتین — Page 37
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۷ تذكرة الشهادتين اُس نے مجھ سے لدہانہ میں ملاقات کی اور یہ تمام پیشگوئی مجھے سنائی۔ اس لئے مولویوں نے اُس کو بہت تکلیف دی مگر اُس نے کچھ پروا نہ کی۔ اُس نے مجھے کہا کہ گلاب شاہ مجھے کہتا تھا کہ عیسی بن مریم زندہ نہیں وہ مر گیا ہے ۔ وہ دنیا میں واپس نہیں آئے گا۔ اس اُمت کے لئے مرزا غلام احمد عیسی ہے۔ جس کو خدا کی قدرت اور مصلحت نے پہلے عیسی سے مشابہ بنایا ہے اور آسمان پر اس کا نام عیسی رکھا ہے اور فرمایا کہ اے کریم بخش جب وہ عیسی ظاہر ہوگا تو تو دیکھے گا کہ مولوی لوگ کس قدر اُس کی مخالفت کریں گے وہ سخت مخالفت کریں گے لیکن نا مرا در ہیں گے ۔ وہ اس لئے دنیا میں ظاہر ہوگا کہ تا وہ جھوٹے حاشیے جو قرآن پر چڑھائے گئے ہیں اُن کو دُور کرے اور قرآن کا اصل چہرہ دنیا کو دکھاوے۔ اس پیشگوئی میں اس بزرگ نے صاف طور پر یہ اشارہ کیا تھا کہ تو اس قدر عمر پائے گا کہ اس عیسی کو دیکھ لے گا۔ اب با وجود ان تمام شہادتوں اور معجزات اور زبر دست نشانوں کے مولوی لوگ میری تکذیب کرتے ہیں اور ضرور تھا کہ ایسا ہی کرتے تا پیشگوئی آیت غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ کی پوری ہو جاتی۔ یادر ہے کہ اصل جڑھ اس مخالفت کی ایک حماقت ہے اور وہ یہ کہ مولوی لوگ یہ چاہتے ہیں کہ جو کچھ ان کے پاس رطب و یابس کا ذخیرہ ہے وہ سب علامتیں مسیح موعود میں ثابت ہونی چاہئیں اور ایسے مدعی مسیحیت یا مہدویت کو ہر گز نہیں ماننا چاہئے کہ ان کی تمام حدیثوں میں سے گو ایک حدیث اس پر صادق نہ آوے حالانکہ قدیم سے یہ امر غیر ممکن چلا آیا (۳۶) ہے۔ یہود نے جو جو علامتیں حضرت عیسی کے لئے اپنی کتابوں میں تراش رکھی تھیں وہ پوری نہ ہوئیں ۔ پھر انہیں بد بخت لوگوں نے ہمارے سید و مولی محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جو جو علامتیں تراشی تھیں اور مشہور کر رکھی تھیں وہ بھی بہت ہی کم پوری ہوئیں ۔ اُن کا خیال تھا کہ یہ آخری نبی بنی اسرائیل سے ہوگا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسماعیل میں پیدا ہوئے۔ اگر خدا تعالیٰ چاہتا تو توریت میں لکھ دیتا کہ اس نبی کا نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم الفاتحة :