تذکرة الشہادتین — Page 34
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۴ تذكرة الشهادتين کہ ایک خون کا مقدمہ مجھ پر بنایا گیا اور اسی کے ضمن میں مجھے باغی بنانے کی کوشش کی گئی۔ یہ وہی مقدمہ ہے جس میں فریق ثانی کی طرف سے مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی گواہ بن کر آئے تھے (۱۲) بارھویں خصوصیت یسوع مسیح میں یہ تھی کہ جب وہ صلیب پر چڑھایا گیا تو اُس کے ساتھ ایک چور بھی صلیب پر لٹکایا گیا تھا سو اس واقعہ میں بھی میں شریک کیا گیا ہوں کیونکہ جس دن مجھ کو خون کے مقدمہ سے خدا تعالیٰ نے رہائی بخشی۔ اور اس پیشگوئی کے موافق جو میں خدا تعالیٰ سے وحی یقینی پا کر صد ہالوگوں میں شائع کر چکا تھا مجھ کو بری فرمایا اس دن میرے ساتھ ایک عیسائی چور بھی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ یہ چور عیسائیوں کی مقدس جماعت مکتی فوج میں سے تھا جس نے کچھ روپیہ چھالیا تھا۔ اس چور کو صرف تین مہینہ کی سزا ملی۔ پہلے مسیح کے رفیق چور کی طرح سزائے موت اس کو نہیں ہوئی (۱۳) تیرھویں خصوصیت مسیح میں یہ تھی کہ جب وہ پیلاطوس گورنر کے سامنے پیش کیا گیا اور سزائے موت کی درخواست کی گئی تو پیلاطوس نے کہا کہ میں اس کا کوئی گناہ نہیں پاتا جس سے یہ سزا دوں ۔ ایسا ہی کپتان ڈگلس صاحب ضلع مجسٹریٹ نے میرے ایک سوال کے جواب میں مجھ کو کہا کہ میں آپ پر کوئی الزام نہیں لگاتا۔ میرے خیال میں ہے کہ کپتان ڈگلس اپنی استقامت اور عادلانہ شجاعت میں پیلاطوس سے بہت بڑھ کر تھا کیونکہ پیلاطوس نے آخر کار بزدلی دکھائی اور یہودیوں کے شریر مولویوں سے ڈر گیا مگر ڈگلس ہر گز نہ ڈرا۔ اس کو مولوی محمد حسین نے کرسی مانگ کر کہا کہ میرے ۳۳ پاس صاحب لفٹنٹ گورنر بہادر کی چٹھیاں ہیں مگر کپتان ڈگلس نے اس کی کچھ پروانہ کی ۔ اور میں باوجود یکہ ملزم تھا مجھے کرسی دی اور اس کو کرسی کی درخواست پر جھڑک دیا اور کرسی نہ دی اگر چہ آسمان پر کرسی پانے والے زمین کی کرسی کے کچھ محتاج نہیں ہیں مگر یہ نیک اخلاق اس ہمارے وقت کے پیلاطوس کے ہمیشہ ہمیں اور ہماری جماعت کو یا در ہیں گے اور دنیا کے اخیر تک اس کا نام عزت سے لیا جائے گا۔