تذکرة الشہادتین — Page 33
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۳ تذكرة الشهادتين (۷) ساتویں خصوصیت یہ کہ مذہب عیسائی آخر قیصری قوم میں گھس گیا۔ سو اس خصوصیت میں بھی آخری مسیح کا اشتراک ہے کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ یورپ اور امریکہ میں میرے دعوئی اور دلائل کو بڑی دلچسپی سے دیکھا جاتا ہے اور ان لوگوں نے خود بخو دوصد با اخبار میں میرے دعوئی اور دلائل کو شائع کیا ہے اور میری تائید اور تصدیق میں ایسے الفاظ لکھے ہیں کہ ایک عیسائی کے قلم سے ایسے الفاظ کا نکلنا مشکل ہے یہاں تک کہ بعض نے صاف لفظوں میں لکھ دیا ہے کہ یہ شخص سچا معلوم ہوتا ہے۔ اور بعض نے یہ بھی لکھا ہے کہ در حقیقت یسوع مسیح کو خدا بنانا ایک بھاری غلطی ہے۔ اور بعض نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس وقت مسیح موعود کا دعوی عین وقت پر ہے اور وقت خود ایک دلیل ہے۔ غرض اُن کے ان تمام بیانات سے صاف ظاہر ہے کہ وہ میرے دعوے کے قبول کرنے کے لئے تیاری کر رہے ہیں۔ اور ان ملکوں میں سے دن بدن عیسائی مذہب خود بخود برف کی طرح پگھلتا جاتا ہے۔ (۸) آٹھویں خصوصیت مسیح میں یہ تھی کہ اُس کے وقت میں ایک ستارہ نکلا تھا۔ اس خصوصیت میں بھی میں آخری مسیح بننے میں شریک کیا گیا ہوں کیونکہ وہی ستارہ جو مسیح کے وقت میں نکلا تھا دوبارہ میرے وقت میں نکلا ہے۔ اس بات کی انگریزی اخباروں نے بھی تصدیق کی ہے اور اس سے یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ مسیح کے ظہور کا وقت نزدیک ہے (۹) نویس خصوصیت یسوع مسیح میں یہ تھی کہ جب اس کو صلیب پر چڑھایا گیا تو سورج کو گرہن لگا تھا سو اس واقعہ میں بھی خدا نے مجھے شریک کیا ہے کیونکہ جب میری تکذیب کی گئی تو اس کے بعد نہ صرف سورج بلکہ چاند کو بھی ایک ہی مہینہ میں جو رمضان کا مہینہ تھا گرہن لگا تھا اور نہ ایک دفعہ بلکہ حدیث کے مطابق دو دفعہ یہ واقعہ ہوا۔ ان دونوں گرہنوں کی انجیلوں میں بھی خبر دی گئی ہے اور ۳۲) قرآن شریف میں بھی یہ خبر ہے اور حدیثوں میں بھی جیسا کہ دار قطنی میں (۱۰) دسویں خصوصیت یہ ہے کہ یسوع مسیح کو دکھ دینے کے بعد یہودیوں میں سخت طاعون پھیلی تھی سو میرے وقت میں بھی سخت طاعون پھیل گئی (۱۱) گیارہویں خصوصیت یسوع مسیح میں یہ تھی کہ یہودیوں کے علماء نے کوشش کی کہ وہ باغی قرار پاوے اور اس پر مقدمہ بنایا گیا اور زور لگایا گیا کہ اُس کو سزائے موت دی جائے سو اس قسم کے مقدمہ میں بھی قضاء و قدر الہی نے مجھے شریک کر