تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 32 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 32

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۲ تذكرة الشهادتين سے اسلام پھیلے ہاں عیسائی مذہب دلائل کے رو سے دن بدن سست ہوتا جاتا ہے اور بڑے بڑے محقق تثلیث کے عقیدہ کو چھوڑتے جاتے ہیں یہاں تک کہ جرمن کے بادشاہ نے بھی اس عقیدہ کے ترک کی طرف اشارہ کر دیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ محض دلائل کے ہتھیار سے عیسائی تثلیث کے عقیدہ کو زمین پر سے نابود کرنا چاہتا ہے۔ یہ قاعدہ ہے کہ جو پہلو ہو نہار ہوتا ہے پہلے سے اس کے علامات شروع ہو جاتے ہیں۔ سو مسلمانوں کے لئے آسمان سے حربی فتوحات کی کچھ علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔ البتہ مذہبی دلائل کی علامات ظاہر ہوئی ہیں۔ اور عیسائی مذہب خود بخود پگلتا جاتا ہے۔ اور قریب ہے کہ جلد تر صفحہ دنیا سے نابود ہو جائے ۔ (۵) پنجم خصوصیت جو پہلے میچ میں تھی وہ یہ ہے کہ اس کے زمانہ میں یہودیوں کا چال چلن بگڑ گیا تھا۔ بالخصوص اکثر ان کے جو علماء کہلاتے تھے وہ سخت مکار اور دنیا پرست اور دنیا کے لالچوں میں اور دنیوی عزتوں کی خواہشوں میں غرق ہو گئے تھے۔ ایسا ہی آخری مسیح کے وقت میں عام لوگوں اور اکثر علماء اسلام کی حالت ہورہی ہے مفصل لکھنے کی کچھ حاجت نہیں۔ (۶) چھٹی خصوصیت یعنی یہ کہ حضرت مسیح قیصر روم کے ماتحت مبعوث ہوئے تھے سو اس خصوصیت میں آخری مسیح کا بھی اشتراک ہے۔ کیونکہ میں بھی قیصر کی عملداری کے ماتحت مبعوث ہوا ہوں یہ قیصر اس قیصر سے بہتر ہے جو حضرت مسیح کے وقت میں تھا کیونکہ تاریخ میں لکھا ہے کہ جب قیصر روم کو خبر ہوئی کہ اس کے گورنر پیلاطوس نے حیلہ جوئی سے میسیج کو اس سزا سے بچالیا ہے کہ وہ صلیب پر مارا جائے اور روپوش کر کے کسی طرف فراری کر دیا۔ ہے تو وہ بہت ناراض ہوا اور یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یہ مخبری یہودیوں کے مولویوں نے ہی کی تھی کہ پیلاطوس نے ایک قیصر کے باغی کو مفرور کر دیا ہے تو اس مخبری کے بعد فی الفور پیلاطوس قیصر کے حکم سے جیل خانہ میں ڈالا گیا اور آخری نتیجہ یہ ہوا کہ جیل خانہ میں ہی اس کا سر کاٹا گیا اور اس طرح پر پیلاطوس مسیح کی محبت میں شہید ہوا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اہل حکم اور سلطنت اکثر دین سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اس نادان قیصر نے یہودیوں کے علماء کو بہت معتبر سمجھا اور ان کی عزت افزائی کی اور اُن کی باتوں پر عمل کیا اور حضرت مسیح کے قتل کئے جانے کو مصلحت ملکی قرار دیا مگر جہاں تک میرا خیال ہے اب زمانہ بہت بدل گیا ہے اس لئے ہمارا قیصر بمراتب اس قیصر سے بہتر ہے جو ایسا جاہل اور ظالم تھا۔