تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 30 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 30

تذكرة الشهادتين روحانی خزائن جلد ۲۰ جو موسی“ کے بعد چودھویں صدی میں ظاہر ہوا۔ (۱۵) پندرھویں خصوصیت یہ کہ یسوع بن مریم کے وقت میں جو قیصر تھا اس کے عہد میں بہت سی نئی باتیں رعایا کے آرام اور ان کے سفر و حضر کی سہولت کے لئے نکل آئی تھیں۔ سڑکیں بنائی گئی تھیں اور سرائیں تیار کی گئی تھیں اور عدالت کے نئے طریقے وضع کئے گئے تھے جو انگریزی عدالت سے مشابہ تھے (۱۶) سولہویں خصوصیت مسیح میں یہ تھی کہ بن باپ پیدا ہونے میں آدم سے مشابہ تھے۔ یہ سولہ خصوصیتیں ہیں جو موسوی سلسلہ میں حضرت عیسی علیہ السلام میں رکھی گئی تھیں۔ پھر جبکہ خدا تعالیٰ نے موسوی سلسلہ کو ہلاک کر کے محمدی سلسلہ قائم کیا جیسا کہ نبیوں کے صحیفوں میں وعدہ دیا گیا تھا تو اس حکیم و علیم نے چاہا کہ اس سلسلہ کے اول اور آخر دونوں میں مشابہت تامہ پیدا کرے تو پہلے اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرما کر مثیل موسی قرار دیا جیسا کہ آیت إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا اَرْسَلْنَا إِلى فِرْعَوْنَ رَسُولًا سے ظاہر ہے۔ حضرت موسی نے کافروں کے مقابل پر تلوار اُٹھائی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس وقت جبکہ مکہ سے نکالے گئے اور تعاقب کیا گیا مسلمانوں کی حفاظت کے لئے تلوار اُٹھائی۔ ایسا ہی حضرت موسی کی نظر کے سامنے سخت دشمن ان کا جو فرعون تھا غرق کیا گیا۔ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سخت دشمن آپ کا جو ابو جہل تھا ہلاک کیا گیا۔ ایسا ہی اور بہت سی مشابہتیں ہیں جن کا ذکر کرنا موجب طول ہے۔ یہ تو سلسلہ کے اول میں مشابہتیں ہیں مگر ضروری تھا کہ سلسلہ محمدی کے آخری خلیفہ میں بھی سلسلہ موسویہ کے آخری خلیفہ سے مشابہت ہو تا خدا تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ سلسلہ محمد یہ باعتبار امام سلسلہ اور خلفاءسلسلہ کے سلسلہ موسویہ سے مشابہ ہے ٹھیک ہو اور ہمیشہ مشابہت اول اور آخر میں دیکھی جاتی ہے اور درمیانی زمانہ جو ایک طویل مدت ہوتی ہے گنجائش نہیں رکھتا کہ پوری پوری نظر سے اس کو جانچا جائے مگر اول اور آخر کی مشابہت سے یہ قیاس پیدا ہو جاتا ہے کہ درمیان میں بھی ضرور ۲۹ مشابہت ہو گی گو نظر عقلی اس کی پوری پڑتال سے قاصر رہے اور ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام میں مذہبی پہلو کے رو سے سولہ خصوصیتیں تھیں جن کا اسلام کے آخری خلیفہ میں پایا جانا المزمل : ١٦