تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 28 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 28

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۸ تذكرة الشهادتين چوروں اور بدمعاشوں کے ساتھ حوالات میں دیا گیا حالانکہ اس کا ایک ذرہ قصور نہ تھا۔ صرف گورنمنٹ کی طرف سے یہودیوں کی ایک دل جوئی تھی کیونکہ سلطنت کی حکمت عملی کا یہ اصول ہے (۲۲) کہ گروہ کثیر کی رعایت رکھی جائے سو اس غریب کو کون پوچھتا تھا۔ یہ عدالت تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آخر وہ یہودیوں کے مولویوں کے سپرد ہوا اور انہوں نے اس کو صلیب پر چڑھا دیا ایسی عدالت پر خدا جوزمین و آسمان کا مالک ہے لعنت کرتا ہے مگر افسوس ان حکومتوں پر جن کی آسمان کے خدا پر نظر نہیں ۔ یوں بگفتن پیلاطوس جو اس ملک کا گورنر تھا مع اپنی بیوی کے حضرت عیسی کا مرید تھا اور چاہتا تھا کہ اسے چھوڑ دے مگر جب زبر دست یہودیوں کے علماء نے جو قیصر کی طرف سے باعث اپنی دنیا داری کے کچھ عزت رکھتے تھے اس کو یہ کہہ کر دھمکایا کہ اگر تو اس شخص کو سزا نہیں دے گا تو ہم قیصر کے حضور میں تیرے پر فریاد کریں گے تب وہ ڈر گیا کیونکہ بزدل تھا۔ اپنی ارادت پر قائم نہ رہ سکا۔ یہ خوف اس لئے اس کے دامن گیر ہوا کہ بعض معزز علماء یہود نے قیصر تک اپنی رسائی بنا رکھی تھی اور پوشید و طور پر حضرت عیسی کی نسبت یہ مخبری کرتے تھے کہ یہ مفسد اور در پردہ گورنمنٹ کا دشمن ہے اور اپنی ایک جمعیت بنا کر قیصر پر حملہ کرنا چاہتا ہے بظاہر یہ مشکلات بھی پیش تھیں کہ اس سادہ اور غریب انسان کو قیصر اور اس کے حکام سے کچھ تعلق نہ تھا اور ریا کاروں اور دنیا طلبوں کی طرح ان سے کچھ تعارف نہ تھا اور خدا پر بھروسہ رکھتا تھا اور اکثر علمائے یہود اپنی دنیا پرستی اور چالبازی اور خوشامدانہ وضع سے سلطنت میں جنس گئے تھے وہ سلطنت کے در حقیقت دوست نہ تھے مگر معلوم ہوتا ہے کہ سلطنت اس دھو کے میں ضرور آگئی تھی کہ وہ دوست ہیں اس لئے ان کی خاطر سے ایک بے گناہ خدا کا نبی ہر ایک طرح سے ذلیل کیا گیا مگر وہ جو آسمان سے دیکھتا اور دلوں کا مالک ہے وہ تمام شرارت پیشہ اس کی نظر سے مجوب نہ تھے آخر انجام یہ ہوا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو صلیب پر چڑھا دئیے جانے کے بعد خدا نے مرنے سے بچالیا اور ان کی وہ دعا منظور کر لی جو انہوں نے درد دل سے باغ میں کی تھی جیسا کہ لکھا ہے کہ جب مسیح کو یقین ہو گیا کہ یہ خبیث یہودی میری جان کے دشمن ہیں اور مجھے نہیں چھوڑتے تب وہ ایک باغ میں رات کے وقت جا کر زار زار رویا اور دعا کی کہ یا الہی اگر تو یہ پیالہ مجھ سے ٹال دے تو تجھ سے بعید نہیں تو جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اس جگہ عربی انجیل میں یہ عبارت لکھی ہے۔ فبکی بدموع جارية و عبرات متحدّرة فسُمِع لتقواه یعنی یسوع مسیح اس قدر رویا کہ دعا