تذکرة الشہادتین — Page 27
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۷ تذكرة الشهادتين پس انسانی فطرتیں اس سخت حکم کو برداشت نہ کر سکیں اور جب یہ خیالات غیر مذہب والوں کے انتہا تک پہنچ گئے تو خدا تعالیٰ نے چاہا کہ ایک ایسا نبی بھیج کر جو صرف صلح اور امن سے مذہب کو پھیلائے تو ریت پر سے وہ نکتہ چینی اُٹھا دے جو غیر قوموں نے کی تھی ۔ سورہ صلح کا نبی عیسی ابن مریم تھا (۵) پانچویں یہ کہ حضرت عیسی کے وقت میں یہودیوں کے علماء کا عموما چال چلن بہت بگڑ چکا (۲۵) تھا اور اُن کا قول اور فعل باہم مطابق نہ تھا۔ ان کی نمازیں اور ان کے روزے محض ریا کاری سے پر تھے اور وہ جاہ طلب علماء رومی سلطنت کے نیچے ایسے دنیا کے کیڑے ہو چکے تھے کہ تمام ہمتیں ان کی اسی میں مصروف ہو گئی تھیں کہ مکر سے یا خیانت سے یا دغا سے یا جھوٹی گواہی سے یا جھوٹے فتووں سے دنیا کماویں۔ ان میں بجز زاہدانہ لباس اور بڑے بڑے جنوں کے ایک ذرہ روحانیت باقی نہیں رہی تھی۔ وہ رومی سلطنت کے حکام سے بھی عزت پانے کے بہت خواہاں تھے اور طرح طرح کے جوڑ توڑ اور جھوٹی خوشامد سے سلطنت سے عزت اور کسی قدر حکومت حاصل کر لی تھی اور چونکہ ان کی دنیا ہی دنیارہ گئی تھی اس لئے وہ اس عزت سے جو تو ریت پر عمل کرنے سے آسمان پر مل سکتی تھی بالکل لا پروا ہو کر دنیا پرستی کے کیڑے بن گئے تھے اور تمام فخر دنیا کی وجاہت میں ہی سمجھتے تھے اور اسی وجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ملک کے گورنر پر جو رومی سلطنت کی طرف سے تھا کسی قدر ان کا دباؤ بھی تھا کیونکہ ان کے بڑے بڑے دنیا پرست مولوی دور دراز سفر کر کے قیصر کی ملاقات بھی کرتے تھے اور سلطنت سے تعلقات بنا رکھے تھے اور کئی لوگ ان میں سے سلطنت کے وظیفہ خوار بھی تھے اسی بنا پر وہ لوگ اپنے تئیں سلطنت کے بڑے خیر خواہ جتلاتے تھے اس لئے وہ اگر چہ ایک نظر سے زیر نگرانی بھی تھے مگر خوشامدانہ طریقوں سے انہوں نے قیصر اور اس کے بڑے حکام کو اپنی نسبت بہت نیک ظن بنا رکھا تھا۔ انہیں چال بازیوں کی وجہ سے علماء ان میں سے سلطنت کے حکام کی نظر میں معزز سمجھے جاتے تھے اور کرسی نشین تھے ۔ لہذا وہ غریب گلیل کا رہنے والا جس کا نام یسوع بن مریم تھا۔ ان شریر لوگوں کے لئے بہت کوفتہ خاطر کیا گیا۔ اس کے منہ پر نہ صرف تھوکا گیا بلکہ گورنر کے حکم سے اس کو تازیانے بھی مارے گئے ۔ وہ