تذکرة الشہادتین — Page 26
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۶ تذكرة الشهادتين ایسے وقت میں آیا تھا جبکہ یہودی اپنی سلطنت کھو چکے تھے یعنی اس ملک میں یہودیوں کی کوئی سلطنت نہیں رہی تھی گو ممکن تھا کہ کسی اور ملک میں جہاں بعض فرقے یہود کے چلے گئے تھے کوئی حکومت ان کی قائم ہوگئی ہو جیسا کہ سمجھا جاتا ہے کہ افغان اور ایسا ہی کشمیری بھی یہود میں سے ہیں (۲۳) جن کا اسلام قبول کرنے کے بعد سلاطین میں داخل ہونا ایک ایسا واقعہ ہے جس سے انکار نہیں ہو سکتا۔ بہر حال حضرت مسیح کے ظہور کے وقت اس حصہ ملک سے یہود کی سلطنت جاتی رہی تھی اور وہ رومی سلطنت کے ماتحت زندگی بسر کرتے تھے اور رومی سلطنت کو انگریزی سلطنت سے بہت مشابہت تھی (۳) تیسری یہ کہ وہ ایسے وقت میں آیا تھا کہ جبکہ یہودی بہت سے فرقوں پر منقسم ہو چکے تھے اور ہر ایک فرقہ دوسرے فرقہ کا مخالف تھا اور ان سب میں با ہم سخت عناد اور خصومتیں پیدا ہوگئی تھیں اور توریت کے اکثر احکام بباعث ان کے کثرت اختلافات کے مشتبہ ہو گئے تھے صرف وحدانیت الہی میں وہ باہم اتفاق رکھتے تھے باقی اکثر مسائل جزئیہ میں وہ ایک دوسرے کے دشمن تھے اور کوئی واعظ ان میں باہم صلح نہیں کر سکتا تھا اور نہ ان کا فیصلہ کر سکتا تھا۔ اس صورت میں وہ ایک آسمانی حکم یعنی فیصلہ کنندہ کے محتاج تھے جو خدا سے جدید وحی پا کر اہل حق کی حمایت کرے اور قضاء وقدر سے ایسی ضلالت کی ملونی ان کے کل فرقوں میں ہوگئی تھی جو خالص طور پر ان میں ایک بھی اہل حق نہیں کہلا سکتا تھا۔ ہر ایک فرقہ میں کچھ نہ کچھ جھوٹ اور افراط و تفریط کی آمیزش تھی۔ پس یہی وجہ پیدا ہو گئی تھی کہ یہود کے تمام فرقوں نے حضرت مسیح کو دشمن پکڑ لیا تھا اور ان کی جان لینے کی فکر میں ہو گئے تھے کیونکہ ہر ایک فرقہ چاہتا تھا کہ حضرت مسیح پورے طور پر ان کا مصدق ہو اور ان کو راستباز اور نیک چلن خیال کرے اور ان کے مخالف کو جھوٹا کہے اور ایسا مداہنہ خدا تعالیٰ کے نبی سے غیر ممکن تھا۔ (۴) چہارم یہ کہ مسیح ابن مریم کے لئے جہاد کا حکم نہ تھا اور حضرت موسی کا مذہب یونانیوں اور رومیوں کی نظر میں اس وجہ سے بہت بدنام ہو چکا تھا کہ وہ دین کی ترقی کے لئے تلوار سے کام لیتا رہا ہے گو کسی بہانہ سے۔ چنانچہ اب تک ان کی کتابوں میں موسٹی کے مذہب پر برابر یہ اعتراض ہیں کہ کئی لاکھ شیر خوار بچے اس کے حکم اور نیز اس کے خلیفہ یشوع کے حکم سے جو اس کا جانشین تھا قتل کئے گئے اور پھر داؤد اور دوسرے نبیوں کی لڑائیاں بھی اس اعتراض کو چمکاتی تھیں