تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 25 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 25

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۵ تذكرة الشهادتين نہیں چھوڑا ۔ اور قرآن شریف اور احادیث اور پہلی کتابوں میں لکھا تھا کہ اس کے زمانہ میں ایک نئی سواری پیدا ہوگی جو آگ سے چلے گی اور انہیں دنوں میں اونٹ بریکار ہو جائیں گے اور یہ آخری حصہ کی حدیث صحیح مسلم میں بھی موجود ہے سو وہ سواری ریل ہے جو پیدا ہو گئی ۔ اور لکھا تھا کہ وہ مسیح موعود صدی کے سر پر آئے گا۔ سو صدی میں سے بھی اکیس برس گزر گئے ۔ اب ان تمام نشانوں کے بعد جو شخص مجھے رد کرتا ہے وہ مجھے نہیں بلکہ تمام نبیوں کو رد کرتا ہے اور خدا تعالیٰ سے جنگ کر رہا ہے اگر وہ پیدا نہ ہوتا تو اس کے لئے بہتر تھا۔ خوب یادرکھو کہ تمام خرابی اور تباہی جو اسلام میں پیدا ہوئی یہاں تک کہ اسی ملک (۲۳ ہندوستان میں ۲۹ لاکھ انسان مرتد ہو کر عیسائی ہو گیا۔ اس کا سبب یہی تھا کہ مسلمان حضرت عیسی کی نسبت بے جا اور مبالغہ آمیز امیدیں رکھ کر اور ان کو ہر یک صفت میں خصوصیت دے کر قریب قریب عیسائیوں کے پہنچ گئے ۔ یہاں تک کہ جو کچھ بعض انسانی صفات وہ حضرت سید نا پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت تجویز کرتے ہیں اگر کسی تاریخی کتاب میں اسی قسم کے صفات حضرت عیسی علیہ السلام کی نسبت لکھے ہوں تو تو بہتو بہ کر اٹھتے ہیں۔ مثلاً ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بسا اوقات بیمار بھی ہو جاتے تھے اور آپ کو تپ بھی آجاتا تھا اور آپ دوا بھی کرتے تھے اور بسا اوقات سنگیاں پچھ کے ساتھ لگواتے تھے لیکن اگر اسی کے مشابہ حضرت مسیح کی نسبت لکھا ہو کہ وہ تپ میں یا کسی اور بیماری میں گرفتار ہو گئے اور ان کو اٹھا کر کسی ڈاکٹر کے پاس لے گئے تو فی الفور چونک اٹھیں گے کہ یہ مسیح کی شان سے بعید ہے حالانکہ وہ صرف ایک عاجز انسان تھا اور تمام انسانی فعلوں سے پورا حصہ رکھتا تھا اور وہ اپنے چار بھائی حقیقی اور رکھتا تھا جو بعض اس کے مخالف تھے۔ اور اس کی حقیقی ہمشیرہ دو تھیں۔ کمزور سا آدمی تھا جس کو صلیب پر محض دو میخوں کے ٹھوکنے سے غش آ گیا۔ ہائے افسوس اگر مسلمان حضرت عیسی کی نسبت قرآن شریف کے قول پر چلتے اور ان کو وفات یافتہ یقین رکھتے اور جیسا کہ قرآن کا منشا ہے ان کا دوبارہ آنا ممتنع سمجھتے تو اسلام میں یہ تباہی نہ آتی جو آ گئی اور عیسائیت کا جلد تر خاتمہ ہو جاتا ۔ شکراللہ کہ اس وقت خدا نے آسمان سے اسلام کا ہاتھ پکڑ لیا۔ یہ وہ باتیں تھیں جو میں نے صاحبزادہ مولوی عبداللطیف صاحب سے کیس اور وہ امر جو آخر میں ان کو سمجھایا وہ یہ تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام میں مذہبی پہلو کے رو سے سوالہ خصوصیتیں ہیں (۱) اول یہ کہ وہ بنی اسرائیل کے لئے ایک موعود نبی تھا جیسا کہ اس پر اسرائیلی نبیوں کے صحیفے گواہ ہیں۔ (۲) دوسری یہ کہ مسیح