تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 14 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 14

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۴ تذكرة الشهادتين میں بھی ایک عیسی پیدا ہونے والا ہے۔ ورنہ اس دعا کی کیا ضرورت تھی۔ اور نیز جبکہ آیات مذکورہ بالا سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی زمانہ میں بعض علماء مسلمان بالکل علماء یہود سے مشابہ ہو جائیں گے اور یہود بن جائیں گے۔ پھر یہ کہنا کہ ان یہودیوں کی اصلاح کے لئے اسرائیلی عیسی آسمان سے نازل ہوگا بالکل غیر معقول بات ہے کیونکہ اول تو باہر سے ایک نبی کے آنے سے مہر ختم نبوت ٹوٹتی ہے اور قرآن شریف صریح طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء ٹھہراتا ہے۔ ماسوا اس کے قرآن شریف کے رُو سے یہ امت خیر الام کہلاتی ہے۔ پس اس کی اس سے زیادہ بے عزتی اور کوئی نہیں ہوسکتی کہ یہودی بننے کے لئے تو یہ امت ہو مگر عیسی باہر سے آوے۔ اگر یہ بیچ ہے کہ کسی زمانہ میں اکثر علماء اس اُمت کے یہودی بن جائیں گے یعنی یہود خصلت ہو جائیں گے۔ تو پھر یہ بھی سچ ہے کہ ان یہود کے درست کرنے کے لئے عیسی باہر سے نہیں آئے گا بلکہ جیسا کہ بعض افراد کا نام یہود رکھا گیا ہے۔ ایسا ہی اس کے مقابل پر ایک فرد کا نام عیسی بھی رکھا جائے گا۔ اس بات کا انکار نہیں ہو سکتا کہ قرآن اور حدیث دونوں نے بعض افراد اس اُمت کا نام یہود رکھا ہے۔ جیسا کہ آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سے بھی ظاہر ہے کیونکہ اگر بعض افراد اس اُمت کے یہودی بننے والے نہ ہوتے تو دُعائد کورہ بالا ہر گز نہ سکھلائی جاتی۔ جب سے دنیا میں خدا کی کتابیں آئی ہیں۔ خدا تعالیٰ کا ان میں یہی محاورہ ہے کہ جب کسی قوم کو ایک بات سے منع کرتا ہے کہ مثلاتم زنا نہ کرو۔ یا چوری نہ کرو۔ یا یہودی نہ بنو۔ تو اس منع کے اندر یہ پیشگوئی مخفی ہوتی ہے کہ بعض ان میں سے ارتکاب ان جرائم کا کریں گے۔ دنیا میں کوئی شخص ایسی ۱۲ نظیر پیش نہیں کر سکتا کہ ایک جماعت یا ایک قوم کو خدا تعالیٰ نے کسی ناکردنی کام سے منع کیا ہو۔ اور پھر وہ سب کے سب اس کام سے باز رہے ہوں بلکہ ضرور بعض اس کام کے مرتکب ہو جاتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے توریت میں یہودیوں کو یہ حکم دیا کہ تم نے توریت کی تحریف نہ کرنا سواس حکم کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعض یہود نے توریت کی تحریف کی مگر قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو کہیں یہ حکم نہیں دیا کہ تم نے قرآن کی تحریف نہ کرنا بلکہ یہ فرمایا کہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ * یعنی ہم نے ہی قرآن شریف کو اتارا اور ہم ہی اس کی محافظت کریں گے۔ اسی وجہ سے قرآن شریف تحریف سے محفوظ رہا۔ غرض یہ قطعی اور یقینی اور مسلم سنت الہی ہے کہ جب خدائے تعالیٰ کسی کتاب الفاتحة : الحجر:١٠