تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 12 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 12

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۲ تذكرة الشهادتين حج پر ترجیح دی اور کہا کہ میں اس علم کا محتاج ہوں جس سے ایمان قومی ہو اور علم عمل پر مقدم ہے۔ سو میں نے اُن کو مستعد پا کر جہاں تک میرے لئے ممکن تھا اپنے معارف اُن کے دل میں ڈالے اور اس طرح پر اُن کو سمجھایا کہ دیکھو یہ بات بہت صاف ہے۔ کہ اللہ جل شانۂ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا لے جس کے یہ معنی ہیں کہ ہم نے ایک رسول کو جو تم پر گواہ ہے یعنی اس بات کا گواہ کہ تم کیسی خراب حالت میں ہو تمہاری طرف اسی رسول کی مانند بھیجا ہے جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔سواس آیت میں اللہ جل شانہ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مثیل موسیٰ ٹھہرایا ہے ۔ پھر سورہ نور میں سلسلہ خلافت محمدیہ کو سلسلہ خلافت موسویہ کا مثیل ٹھہرا دیا ہے ۔ سو کم سے کم تحقق مشابہت کے لئے یہ ضروری ہے کہ دونوں سلسلوں کے اول اور آخر میں نمایاں مشابہت ہو یعنی یہ ضروری ہے کہ اس سلسلہ کے اول پر مثیل موسیٰ ہو اور اس سلسلہ کے آخیر میں مثیل عیسی ۔ اور ہمارے مخالف علماء یہ تو مانتے ہیں کہ سلسلہ ملت اسلامیہ مثیل موسیٰ سے شروع ہوا مگر وہ سرا سر ہٹ دھرمی سے اس بات کو قبول نہیں کرتے کہ خاتمہ اس سلسلہ کا مثیل عیسی پر ہوگا۔ اور اس صورت میں وہ عمداً قرآن شریف کو چھوڑتے ہیں کیا یہ سچ نہیں ہے کہ قرآن شریف نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مثیل موسی قرار دیا ہے اور کیا یہ سچ نہیں ہے کہ قرآن کریم نے نہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مثیل موسی قرار دیا بلکہ آیت كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ " میں تمام سلسلہ ۱۰ خلافت محمدیہ کو سلسلہ خلافت موسویہ کا مثیل قرار دے دیا ہے۔ پس اس صورت میں قطعا و وجو بالازم آتا ہے کہ سلسلۂ خلافت اسلامیہ کے آخر میں ایک مثیل عیسی پیدا ہو اور چونکہ اول اور آخر کی مشابہت ثابت ہونے سے تمام سلسلہ کی مشابہت ثابت ہو جاتی ہے اس لئے خدا تعالی کے پاک نبیوں کی کتابوں میں جابجا انہیں دونوں مشابہتوں پر زور دیا گیا ہے بلکہ اول اور آخر کے دشمنوں میں بھی مشابہت ثابت کی گئی ہے جیسا کہ ابو جہل کو فرعون سے مشابہت دی گئی ہے اور آخری مسیح کے مخالفین کو یہود مغضوب علیہم سے اور آیت كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ میں یہ بھی اشارہ کر دیا ہے کہ آخری خلیفہ اس امت کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایسے زمانہ میں آئے گا جو وہ زمانہ اپنی مدت میں المزمل: ١٦ النور :۵۶