تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 7 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 7

روحانی خزائن جلد ۲۰ تذكرة الشهادتين میری پیروی کرو تا خدا بھی تمہیں دوست رکھے۔ اور جو لوگ تجھے ٹھٹھا کرتے ہیں ہم اُن کے لئے کافی ہیں۔ میں اس شخص کی اہانت کروں گا جو تیری اہانت کے در پے ہے۔ اور میں اُس شخص کی مددکروں گا جو تیری مدد کرنا چاہتا ہے۔ میں ہوں جو میرے پاس ہو کر میرے رسول ڈرا نہیں کرتے ۔ جب خدا کی مد داور فتح آئے گی اور تیرے رب کا کلمہ پورا ہو جائے گا تو کہا جائے گا کہ یہ وہی ہے جس کے لئے تم جلدی کرتے تھے ۔ اور جب اُن کو کہا جاتا ہے کہ زمین پر فساد مت کرو تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرتے ہیں۔ خبردار رہو کہ وہی مفسد ہیں۔ اور تجھے انہوں نے ہنسی اور ٹھٹھے کی جگہ بنا رکھا ہے۔ اور ٹھٹھا مار کر کہتے ہیں کہ کیا یہ وہی شخص ہے کہ جو خدا نے مبعوث فرمایا۔ یہ تو ان کی باتیں ہیں۔ اور اصل بات یہ ہے کہ ہم نے ان کے سامنے حق پیش کیا۔ پس وہ حق کے قبول کرنے سے کراہت کر رہے ہیں۔ اور جن لوگوں نے ظلم کیا ہے وہ عنقریب جان لیں گے کہ وہ کس طرف پھیرے جائیں گے۔ خدا ان تہمتوں سے پاک اور برتر ہے جو اُس پر لگا رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ تو خدا کی طرف سے بھیجا ہوا نہیں۔ ان کو کہہ دے کہ خدا کی میرے پاس گواہی موجود ہے۔ پس کیا تم ایمان لاتے ہو۔ تو میری درگاہ میں وجیہ ہے میں نے اپنے لئے تجھے چن لیا۔ جب تو کسی پر ناراض ہو تو میں اُس پر ناراض ہوتا ہوں اور ہر ایک چیز جس سے تو پیار کرتا ہے میں بھی اُس سے پیار کرتا ہوں ۔ خدا اپنے عرش سے تیری تعریف کرتا ہے۔ خدا تیری تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چلا آتا ہے۔ تو مجھ سے اُس مرتبہ پر ہے جس کو دنیا نہیں جانتی۔ تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور تفرید ۔ تو ہمارے پانی سے ہے اور وہ لوگ فشل سے۔ اُس خدا کو حمد ہے جس نے تجھے مسیح ابن مریم بنایا اور تجھے وہ باتیں سکھلائیں جن کی تجھے خبر نہ تھی۔ لوگوں نے کہا کہ یہ مرتبہ تجھے کہاں سے اور کیونکر مل سکتا ہے۔ ان کو کہہ دے کہ میرا خدا عجیب ہے اس کے فضل کو کوئی رو نہیں کر سکتا۔ جو کام وہ کرتا ہے اُس سے پوچھا نہیں جاتا کہ ایسا کیوں کیا مگر لوگ اپنے اپنے کاموں سے پوچھے جاتے ہیں۔ تیرا رب جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اُس نے اس آدم کو پیدا کر کے اُس کو بزرگی دی۔ میں نے اس زمانہ میں ارادہ کیا کہ اپنا ایک خلیفہ زمین پر قائم کروں ۔ پس میں نے اس آدم کو پیدا کیا۔ اور لوگوں نے کہا کہ کیا تو ایسا شخص اپنا خلیفہ بناتا ہے جو زمین پر فساد کرتا ہے یعنی پھوٹ ڈالتا ہے تو خدا نے انہیں کہا کہ جن باتوں کا مجھے علم ہے تمہیں وہ باتیں معلوم نہیں ۔ اور کہتے ہیں کہ یہ ایک بناوٹ ہے۔ کہہ خدا ہے جس نے یہ سلسلہ قائم کیا۔ پھر یہ کہہ کر ان کو اپنے لہو ولعب میں چھوڑ دے۔