تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 4 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 4

روحانی خزائن جلد ۲۰ تذكرة الشهادتين زمانہ میں براہ راست خدا سے ہدایت پانے والا اور اُس آسمانی مائدہ کو نئے سرے انسانوں کے آگے پیش کرنے والا تقدیر الہی میں مقرر کیا گیا تھا۔ جس کی بشارت آج سے تیرہ سو برس پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی۔ وہ میں ہی ہوں۔ اور مکالمات الہیہ اور مخاطبات رحمانیہ اس صفائی اور تواتر سے اس بارے میں ہوئے کہ شک و شبہ کی جگہ نہ رہی۔ ہر ایک وحی جو ہوتی تھی ایک فولادی شیخ کی طرح دل میں دھنستی تھی اور یہ تمام مکالمات الہیہ ایسی عظیم الشان پیشگوئیوں سے بھرے ہوئے تھے کہ روز روشن کی طرح وہ پوری ہوتی تھیں۔ اور اُن کے تواتر اور کثرت اور اعجازی طاقتوں کے کرشمہ نے مجھے اس بات کے اقرار کے لئے مجبور کیا کہ یہ اُسی وحدہ لاشریک خدا کا کلام ہے جس کا کلام قرآن شریف ہے۔ اور میں اس جگہ توریت اور انجیل کا نام نہیں لیتا کیونکہ توریت اور انجیل تحریف کرنے والوں کے ہاتھوں سے اس قدر محرف و مبدل ہو گئی ہیں کہ اب ان کتابوں کو خدا کا کلام نہیں کہہ سکتے ۔ غرض وہ خدا کی وحی جو میرے پر نازل ہوئی ایسی یقینی اور قطعی ہے کہ جس کے ذریعہ سے میں نے اپنے خدا کو پایا۔ اور وہ وحی نہ صرف آسمانی نشانوں کے ذریعہ مرتبہ حق الیقین تک پہنچی بلکہ ہر ایک حصہ اُس کا جب خدا تعالی کے کلام قرآن شریف پر پیش کیا گیا تو اس کے مطابق ثابت ہوا اور اس کی تصدیق کے لئے بارش کی طرح نشان آسمانی بر سے۔ انہیں دنوں میں رمضان کے مہینہ میں سورج اور چاند کا گرہن بھی ہوا جیسا کہ لکھا تھا کہ اس مہدی کے وقت میں ماہ رمضان میں سورج اور چاند کا گرہن ہوگا ۔ اور انہیں ایام میں طاعون بھی کثرت سے پنجاب میں ہوئی جیسا کہ قرآن شریف میں یہ خبر موجود ہے۔ اور پہلے نبیوں نے بھی یہ خبر دی ہے کہ ان دنوں میں مری بہت پڑے گی اور ایسا ہوگا کہ کوئی گاؤں اور شہر اُس مری سے باہر نہیں رہے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا اور ہورہا ہے۔ اور خدا نے اُس وقت کہ اس ملک میں طاعون کا نام ونشان نہ تھا قریباً بائیس برس طاعون کے پھوٹنے سے پہلے مجھے اُس کے پیدا ہونے کی خبر دی ۔ پھر اس بارہ میں الہامات بارش کی طرح ہوئے اور تکرار اِن فقرات کا مختلف پیرایوں میں ہوا چنانچہ مندرجہ ذیل وحی میں اس طرح پر مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔ الى امر الله فلا تستعجلوه بشارة تلقاها النبيون۔ ان الله مع الذين اتقوا