تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 3 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 3

روحانی خزائن جلد ۲۰ بدالله الحالي نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَامٌ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَى تذكرة الشهادتين اس زمانہ میں اگر چہ آسمان کے نیچے طرح طرح کے ظلم ہو رہے ہیں مگر جس ظلم کو ابھی میں ذیل میں بیان کروں گا وہ ایک ایسا دردناک حادثہ ہے کہ دل کو ہلا دیتا ہے۔ اور بدن پر لرزہ ڈالتا ہے۔ اس امر کو با ترتیب بیان کرنے کے لئے پہلے یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے زمانہ کی موجودہ حالت کو دیکھ کر اور زمین کو طرح طرح کے فسق اور معصیت اور گمراہی سے بھرا ہوا پا کر مجھے تبلیغ حق اور اصلاح کے لئے مامور فرمایا۔ اور یہ زمانہ بھی ایسا تھا کہ ۔۔۔۔ اس دنیا کے لوگ تیرھویں صدی ہجری کو ختم کر کے چودھویں صدی کے سر پر پہنچ گئے تھے۔ تب میں نے اُس حکم کی پابندی سے عام لوگوں میں بذریعہ تحریری اشتہارات اور تقریروں کے یہ ندا کرنی شروع کی کہ اس صدی کے سر پر جو خدا کی طرف سے تجدید دین کے لئے آنے والا تھا وہ میں ہی ہوں تا وہ ایمان جو زمین پر سے اُٹھ گیا ہے اُس کو دوبارہ قائم کروں اور خدا سے قوت پا کر اُسی کے ہاتھ کی کشش سے دنیا کو صلاح اور تقویٰ اور راستبازی کی طرف کھینچوں اور ان کی اعتقادی اور عملی غلطیوں کو دور کروں اور پھر جب اس پر چند سال گزرے تو بذریعہ وحی الہی میرے پر بتصریح کھولا گیا کہ وہ مسیح جو اس امت کے (۲) لئے ابتدا سے موعود تھا۔ اور وہ آخری مہدی جو تنزل اسلام کے وقت اور گمراہی کے پھیلنے کے