تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxix of 597

تذکرة الشہادتین — Page xxix

ایسا ہی مطالبہ حضور علیہ السلام نے لالہ ملاوامل سے بھی فرمایا ہے۔(صفحہ ۴۴۳جلد۲۰) آخر میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آریوں کے پرمیشر اور اس کی صفات کے متعلق عقائد پر جرح فرمائی ہے اور سب سے آخر میں اسلام کی صداقت اور آریہ مذہب کی حقیقی تصویر کو اپنی ایک نظم میں پیش فرمایا ہے۔۱۰۔احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے اعلیٰ حضرت حجۃ اللہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ایک تقریر ہے جو آپ نے ۲۷؍دسمبر ۱۹۰۵ء کو بعد نماز ظہر و عصر مسجد اقصیٰ میں فرمائی۔۲۶؍دسمبر ۱۹۰۵ء کی صبح کو مہمان خانہ جدید کے بڑے ہال میں احباب کا ایک بڑا جلسہ اس غرض کے لئے منعقد ہوا تھا کہ مدرسہ تعلیم الاسلام کی اصلاح کے سوال پر غور کریں۔اس میں بہت سے بھائیوں نے مختلف پہلوؤں پر تقریریں کیں۔ان تقریروں کے ضمن میں ایک بھائی نے اپنی تقریر کے ضمن میں کہا کہ ’’جہاں تک میں جانتا ہوں حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ و السلام کے سلسلہ اور دوسرے مسلمانوں میں صرف اسی قدر فرق ہے کہ وہ مسیح ابن مریم کا زندہ آسمان پر جانا تسلیم کرتے ہیں اور ہم یقین کرتے ہیں کہ وہ وفات پا چکے ہیں۔اس کے سوا اور کوئی نیا امر ایسا نہیں جو ہمارے اور ان کے درمیان اصولی طور پر قابل نزاع ہو‘‘ اس سے چونکہ کامل طور پر سلسلہ کی بعثت کی غرض کا پتہ نہ لگ سکتا تھا بلکہ ایک امر مشتبہ اور کمزور معلوم ہوتا تھا۔اس لئے ضروری امر تھا کہ آپؑ اس کی اصلاح فرماتے۔چونکہ اس وقت کافی وقت نہ تھا اس لئے ۲۷؍دسمبر کو بعد ظہروعصر آپ نے مناسب سمجھا کہ اپنی بعثت کی اصل غرض پر کچھ تقریر فرمائیں۔آپ کی طبیعت بھی ناساز تھی۔محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ نے احمدی اور غیراحمدی میں فرق کے بارے میں تقریر فرمائی۔خاکسار سید عبد الحی