تذکرة الشہادتین — Page xxi
نے اس کی تائید میں یہ امر بھی پیش فرمایا ہے کہ اگر خدا تعالےٰ کا منشاء یہی ہوتا کہ اس زمانہ میں مسلمان مذہبی لڑائیاں کریں تو وہ اسلحہ سازی اور حربی فنی علوم میں مسلمانوں کو باقی اقوام پر برتری بخشتا۔حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:۔’’انّھا ملحمۃ سلاحھا قلم الحدید لا السیف و المدیٰ‘‘ (تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد نمبر۲۰ صفحہ ۸۸ ) کہ شیطان سے اس آخری جنگ کا ہتھیار تلوار نہیں بلکہ قلم ہے۔حضور علیہ السلام نے اس رسالہ میں اپنے دعویٰ مسیح موعود اور دعویٰ نبوت کو بھی پیش فرمایا ہے دعویٰ ء نبوت کے سِلسلہ میں حضور علیہ السلام نے ایک خاص اعتراض کا ذکر فرمایا ہے۔یہ سوال حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید رضی اﷲ عنہ نے بھی دریافت فرمایا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ امتِ محمدیہ میں سوائے مسیح موعود کے خلفائے راشدین و غیرھم کو نبی کا نام نہیں دیا گیا؟ حضورؑ فرماتے ہیں کہ خلفاء کو نبی کا نام نہ دیئے جانے کی وجہ یہ تھی کہ ختمِ نبوت کی حقیقت لوگوں پر مشتبہ نہ ہو جائے۔لیکن جب ایک زمانہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی نبوت پر گذر گیاتو اﷲ تعالیٰ نے سِلسلۂ محمدیہ کو سِلسلۂ موسویہ سے تشبیہ تام دینے کی خاطر مسیح موعود کو نبی کا نام دے کر مبعوث فرمایا۔(تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد نمبر۲۰ صفحہ۸۷ترجمہ) ۲۔دوسرا رسالہ ’’ذکر حقیقۃ الوحی و ذرائع حصولہ‘‘ کے نام سے مختصر سا رسالہ ہے جس میں حضور علیہ السلام نے وحی کی حقیقت اور اس کے حصول کے ذرائع بیان فرماتے ہوئے ان صفات کا تفصیل سے ذکر فرمایا ہے جو صاحبِ وحی و الہام میں پائی جانی ضروری ہیں۔۳۔تیسرا رسالہ ’’علامات المقربین‘‘ بھی دراصل دوسرے عربی رسالہ کا تسلسل ہی ہے اس میں حضور علیہ السلام نے مقربین بارگاہ الٰہی کی جملہ صفات کو نہایت فصیح و بلیغ عربی میں تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔حضور نے اس رسالہ میں بھی مسیح موعود اور ذوالقرنین ہونے کا دعویٰ پیش فرمایا ہے۔۲۔سیرۃ الابدال عربی زبان میں یہ کتاب دسمبر ۱۹۰۳ء کی تصنیف ہے اور اپنے مضمون میں یہ رسالہ ’’علامات المقربین‘‘