تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 80 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 80

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۸۰ تذكرة الشهادتين نہ دین کے لئے بلکہ دنیا کے لئے پڑھتے ہیں اور اُن کے والدین کے خیالات بھی اسی حد تک محدود ہوتے ہیں مگر پھر بھی ہر روز کی صحبت میں ضرور اثر ہوتا ہے ۔ اگر بین طالب علموں میں سے ایک بھی ایسا نکلے جس کی طبیعت دینی امور کی طرف راغب ہو جائے اور وہ ہمارے سلسلہ اور ہماری تعلیم پر عمل کرنا شروع کرے تب بھی میں خیال کروں گا کہ ہم نے اس مدرسہ کی بنیاد سے اپنے مقصد کو پا لیا۔ آخر میں یہ بھی یادر ہے کہ یہ مدرسہ ہمیشہ اس ستم اور ضعف کی حالت میں نہیں رہے گا بلکہ یقین ہے کہ پڑھنے والوں کی فیس سے بہت کی مدد مل جائے گی یا وہ کافی ہو جائے گی۔ پس اس وقت ضروری نہیں ہوگا کہ لنگر خانہ کی ضروری رقوم کاٹ کر مدرسہ کو دی جائیں ۔ سو اس وسعت کے حاصل ہونے کے وقت ہماری یہ ہدایت منسوخ ہو جائے گی اور لنگر خانہ جو وہ بھی در حقیقت ایک مدرسہ ہے اپنے چہارم حصہ کی رقم کو پھر واپس پالے گا اور یہ مشکل طریق جس میں لنگر خانہ کو حرج پہنچے گا محض اس لئے میں نے اختیار کیا کہ بظاہر مجھے معلوم ہوتا ہے کہ جس قدر مدد کی ضرورت ہے شاید جدید چندہ میں وہ ضرورت پوری نہ ہو سکے لیکن اگر خدا کے فضل سے پوری ہو جائے تو پھر اس قطع بُرید کی ضرورت نہیں اور میں نے یہ جو کہا کہ لنگر خانہ بھی ایک مدرسہ ہے ۔ یہ اس لئے کہا کہ جو مہمان میرے پاس آتے جاتے ہیں جن کے لئے لنگر خانہ جاری ہے وہ میری تعلیم سنتے رہتے ہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جو لوگ ہر وقت میری تعلیم سنتے ہیں خدا تعالی اُن کو ہدایت دے گا اور ان کے دلوں کو کھول دے گا۔ اب میں اسی قدر پر بس کرتا ہوں اور خدا تعالیٰ سے چاہتا ہوں کہ جو مدعا میں نے پیش کیا ہے میری جماعت کو اُس کے پورا کرنے کی توفیق دے اور ان کے مالوں میں برکت ڈالے اور اس کارخیر کے لئے ان کے دلوں کو کھول دے ۔ آمین ثم آمین والسلام على من اتبع الهدى۔ ۱۶ / اکتوبر ۱۹۰۳ء