تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 66 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 66

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۶۶ تذكرة الشهادتين اور دجال ٹھہرایا گیا اور بے ایمانوں میں سے مجھے سمجھا گیا۔ اور ضرور تھا کہ ایسا ہی ہوتا تا وہ پیشگوئی پوری ہوتی جو آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُمے کے اندر مخفی ہے کیونکہ خدا نے منعم علیہم کا وعدہ کر کے اس آیت میں بتا دیا ہے کہ اس امت میں وہ یہودی بھی ہوں گے جو یہود کے علماء سے مشابہ ہوں گے جنہوں نے حضرت عیسی کو سولی دینا چاہا اور جنہوں نے عیسی کو کافر اور دجال اور ملحد قرار دیا تھا۔ اب سوچو کہ یہ کس بات کی طرف اشارہ تھا۔ اسی بات کی طرف اشارہ تھا کہ مسیح موعود اس امت میں سے آنے والا ہے اس لئے اس کے زمانہ میں یہود کے رنگ کے لوگ بھی پیدا کئے جائیں گے جو اپنے زعم میں علماء کہلائیں گے۔ سو آج تمہارے ملک میں وہ پیشگوئی پوری ہوگئی۔ اگر یہ علماء موجود نہ ہوتے تو اب تک تمام باشندے اس ملک کے جو مسلمان کہلاتے ہیں مجھے قبول کر لیتے ۔ پس تمام منکروں کا گناہ ان لوگوں کی گردن پر ہے۔ یہ لوگ راستبازی کے محل میں نہ آپ داخل ہوتے ہیں نہ کم فہم لوگوں کو داخل ہونے دیتے ہیں ۔ کیا کیا مگر ہیں جو کر رہے ہیں اور کیا کیا منصوبے ہیں جو اندر ہی اندر اُن کے گھروں میں ہورہے ہیں مگر کیا وہ خدا پر غالب آجائیں گے اور کیا وہ اُس قادر مطلق کے ارادہ کو روک دیں گے جو تمام نبیوں کی زبانی ظاہر کیا گیا ہے۔ وہ اس ملک کے شریر امیروں اور بد قسمت دولت مند دنیا داروں پر بھروسا رکھتے ہیں مگر خدا کی نظر میں وہ کیا ہیں ۔ صرف ایک مرے ہوئے کیڑے۔ اے تمام لوگوسن رکھو کہ یہ اُس کی پیشگوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا دے گا اور حجت اور برہان کے رو سے سب پر ان کو غلبہ بخشے گا۔ وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہوگا جو عزت کے ساتھ یاد کیا (۶۵) جائے گا۔ خدا اس مذہب اور اس سلسلہ میں نہایت درجہ اور فوق العادت برکت ڈالے گا اور ہر ایک کو جو اس کے معدوم کرنے کا فکر رکھتا ہے نامر اور کھے گا اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے گی۔ اگر اب مجھ سے ٹھٹھا کرتے ہیں تو اس ٹھٹھے سے کیا نقصان کیونکہ کوئی نبی نہیں جس سے ٹھٹھا نہیں کیا گیا۔ پس ضرور تھا کہ مسیح موعود سے بھی ٹھٹھا کیا جاتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: الفاتحة :