سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 63 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 63

روحانی خزائن جلد ۲ ۵۱ سرمه چشم آرید اور خاصیتیں اُن میں رکھیں جن پر غور کرنے سے ایک عجیب عالم عظمت اور قدرت الہی کا (۳) نظر آتا ہے اور جن کے دیکھنے اور سوچنے سے معرفت الہی کا کامل دروازہ کھلتا ہے۔ اُسی قادر توانا کی مدح اور حمد میں محو رہنا چاہیے جس کی ایجاد کے بغیر کوئی ایک چیز بھی موجود نہیں ہوئی وہی ایک ذات عجیب الحکمت و عظیم القدرت ہے جس کے فقط حکمی طاقت سے جو کچھ وجود رکھتا ہے پیدا ہو گیا۔ ہر ایک ذرہ اَنتَ رَبّی اَنت رَبّی کی آواز سے زبان کشا ہے۔ ہر ایک جان است مالکی انت مالکی کی شہادت سے نغمہ سرا ہے ۔ وہی حکیم مطلق ہے جس نے انسانی روحوں کو ایک ایسا پُر منفعت جسم بخشا کہ جو اس جہان میں کمالات حاصل کرنے اور اُس جہان میں اُن کا پورا پورا حظ اُٹھانے کے لئے بڑا بھارا یار و مددگار ہے۔ روح اور جسم دونوں مل کر اس کے وجود کو ثابت کر رہے ہیں۔ اور ظاہری باطنی دونوں قو تیں اُس کی شہادت دے رہی ہیں۔ وہی محسن حقیقی ہے جس نے وفاداری سے ایمان لانے والوں کو ہمیشہ کی رستگاری کی خوشخبری دی اور اپنے صادق عارفوں اور بچے محبوں کے لئے اس جنت دائمی کا وعدہ دیا جو بدرجہ اکمل واتم مظہر العجائب ہے جس کی نہریں اسی دنیوی حیات میں جوش مارنا شروع کرتی ہیں۔ جس کے درخت اسی جگہ کی آبپاشی سے نشو و نما پاتے جاتے ہیں۔ اُسکی قدرت و حکمت ہر جگہ اور ہر چیز میں موجود ہے اور اُس کی حفاظت جو ہر یک چیز کے شامل حال ہے اسکی عام خالقیت پر گواہ ہے۔ اس کی حکیمانہ طاقتیں بے انتہا ہیں کون ہے جو انکی تہ تک پہنچ سکتا ہے۔ اُس کی قادرانہ حکمتیں عمیق در عمیق ہیں۔ کون ہے جو اُن پر احاطہ کر سکتا ہے۔ ہر یک چیز کے اندرا سکے وجود کی گواہی چھپی ہوئی ہے۔ ہر یک مصنوع اُس صانع کامل کی راہ دکھلا رہا ہے۔ موجود بوجود حقیقی وہی ایک رب العالمین ہے اور باقی سب اُس سے پیدا اور اُس کے سہارے سے قائم