سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 331 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 331

روحانی خزائن جلد ۲ ۳۱۹ سرمه چشم آرید بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ اللهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّالِ مُحَمَّدِ أَفْضَلُ الرُّسُلِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنِ اشتہار کتاب براہین احمدیہ جس کو خدائے تعالی کی طرف سے مؤلف نے ملہم و مامور ہوکر بغرض اصلاح و تجدید دین تالیف کیا ہے جس کے ساتھ دس ہزار روپیہ کا اشتہار ہے جس کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ دنیا میں منجانب اللہ و سچاند ہب جس کے ذریعہ انسان خدا تعالی کو ہر ایک عیب اور نقص سے بری سمجھ کر اس کی تمام پاک اور کامل صفتوں پر دلی یقین سے ایمان لاتا ہے وہ فقط اسلام ہے جس میں سچائی کی برکتیں آفتاب کی طرح چمک رہی ہیں اور صداقت کی روشنی دن کی طرح ظاہر ہو رہی ہے اور دوسرے تمام مذہب ایسے بدیہی البطلان ہیں کہ نہ عقلی تحقیقات سے ان کے اصول صحیح اور درست ثابت ہوتے ہیں اور نہ ان پر چلنے سے ایک ذرہ روحانی برکت و قبولیتِ الہی مل سکتی ہے بلکہ ان کی پابندی سے انسان نہایت درجہ کا کور باطن اور سیہ دل ہو جاتا ہے جس کی شقاوت پر اس جہان میں نشانیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اس کتاب میں دین اسلام کی سچائی کو دو طرح پر ثابت کیا گیا ہے (۱) اول تین سو مضبوط اور قوی دلائل عقلیہ سے جن کی شان و شوکت وقدر و منزلت اس سے ظاہر ہے کہ اگر کوئی مخالف اسلام ان دلائل کو توڑ دے تو اس کو دس ہزار روپیہ دینے کا اشتہار دیا ہوا ہے اگر کوئی چاہے تو اپنی تسلی کے لئے عدالت میں رجسٹری بھی کرالے۔ (۲) دوم ان آسمانی نشانوں سے کہ جو بچے دین کی کامل سچائی ثابت ہونے کے لئے از بس ضروری ہیں۔ اس امر دوئم میں مؤلف نے اس غرض سے کہ سچائی دین اسلام کی آفتاب کی طرح روشن ہو جائے تین قسم کے نشان ثابت کر کے دکھائے ہیں اول وہ نشان کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مخالفین نے خود حضرت ممدوح کے ہاتھ سے اور آنجناب کی دعا اور توجہ اور برکت سے ظاہر ہوتے دیکھے جن کو مؤلف یعنی اس خاکسار نے تاریخی طور پر ایک اعلیٰ درجہ کے ثبوت سے مخصوص و ممتاز کر کے درج کتاب کیا ہے۔ دوم و و نشان کہ جو خود قرآن شریف کی ذات بابرکات میں دائمی اور ابدی اور بے مثل طور پر پائے جاتے ہیں جن کو راقم نے بیان شافی اور کافی سے ہر یک عام و خاص پر کھول دیا ہے اور کسی نوع کا عذر کسی کے لئے باقی نہیں رکھا سوم وہ نشان کہ جو کتاب اللہ کی پیروی اور متابعت رسول بر حق سے کسی شخص تابع کو بطور وراحت ملتے ہیں جن کے اثبات میں اس بندہ درگاہ نے بفضل خداوند حضرت قادر مطلق یہ بدیہی ثبوت دکھلایا ہے کہ بہت سے بچے الہامات اور خوارق اور کرامات اور اخبار غیبیہ اور اسرار لدنیہ اور کشوف صادقہ اور دعائیں قبول شدہ کہ جو خود اس خادم دین سے صادر ہوئی ہیں اور جن کی