سُرمہ چشم آریہ — Page 301
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۸۹ سرمه چشم آریه اس انگریز کا نام جارج سیل صاحب ہے جوا کا بر علماء عیسائیوں سے ہے ان کا ترجمہ قرآن شریف جوان کی طرف سے شائع ہوکر مطبع لنڈن فریڈرک وارن اینڈ کمپنی میں چھپا ہے اس کے پہلے دیباچہ میں مؤلف موصوف نے یہ عجیب تذکرہ کہ ایک بزرگ راہب انجیل برنباس پڑھ کر اور اس میں پیشگوئی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کھلے کھلے طور پر پا کر مسلمان ہو گیا تھا اس طور سے (جو نیچے لکھا جاتا ہے ) بیان کیا ہے۔ فرامیرینو جو ایک عیسائی مانک یعنی ایک بزرگ راہب تھا وہ بیان کرتا ہے کہ اتفاقیہ مجھ کو ایک تحریر آیرنس صاحب کی ( جو ایک فاضل مسیحیوں میں سے ہے ) منجملہ اس کی اور تحریروں کے جن میں وہ پولوس کے برخلاف ہے نظر سے گزری اس تحریر میں آمرنیس صاحب ( جو پولوس عیسائی کے مخالف ہیں ) اپنے بیان کی صداقت کی بابت انجیل برنباس کا حوالہ دیتے ہیں ۔ تب میں اس بات کا نہایت شائق ہوا کہ انجیل برنباس کو میں بھی دیکھوں اور اتفاقاً تقریب یہ نکل آئی کہ خدائے تعالیٰ کے فضل وکرم نے پوپ پنجم کا مجھ سے اتحاد و دوستانہ کرادیا۔ ایک روز جبکہ پوپ موصوف کے کتب خانہ میں ہم دونوں اکٹھے تھے اور پوپ صاحب سو گئے تھے میں نے دل بہلانے کو ان کی کتابوں کا ملاحظہ کرنا شروع کیا سوسب سے پہلے جس کتاب پر میرا ہاتھ پڑا وہ وہی انجیل برنباس تھی جس کا میں متلاشی تھا۔ اس کے مل جانے سے مجھے نہایت درجہ کی خوشی پہنچی اور میں نے یہ نہ چاہا کہ ایسی نعمت کو آستین کے نیچے چھپا رکھوں۔ تب میں پوپ صاحب کے جاگنے پر ان سے رخصت ہو کر وہ آسمانی خزانہ اپنے ساتھ لے گیا جس کے پڑھنے سے مجھے دین اسلام نصیب ہوا۔ دیکھو صفحہ دہم سطر چهارم ترجمه قرآن شریف جارج سیل صاحب۔ حاشیه در حاشیه متعلق صفحه ۲۴۰ سرمه چشم آریہ