سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 301 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 301

روحانی خزائن جلد ۲ حاشیه در حاشیه متعلق صفحه ۲۴۰ سرمه چشم آرید ۲۸۹ سرمه چشم آرید اس انگریز کا نام جارج سیل صاحب ہے جوا کا بر علماء عیسائیوں سے ہے ان کا ترجمہ قرآن شریف جو ان کی طرف سے شائع ہو کر مطبع لنڈن فریڈرک وارن اینڈ کمپنی میں چھپا ہے اس کے پہلے دیا چہ میں مؤلف موصوف نے یہ عجیب تذکرہ کہ ایک بزرگ راہب انجیل برنباس پڑھ کر اور اس میں پیشگوئی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کھلے کھلے طور پر پاکر مسلمان ہو گیا تھا اس طور سے ( جو نیچے لکھا جاتا ہے ) بیان کیا ہے۔ فرامیرینو جو ایک عیسائی مانک یعنی ایک بزرگ راہب تھا وہ بیان کرتا ہے کہ اتفاقیہ مجھ کو ایک تحریر آیرنس صاحب کی ( جو ایک فاضل مسیحیوں میں سے ہے ) منجملہ اس کی اور تحریروں کے جن میں وہ پولوس کے برخلاف ہے نظر سے گزری اس تحریر میں آئرنس صاحب ( جو پولوس عیسائی کے مخالف ہیں ) اپنے بیان کی صداقت کی بابت انجیل برنباس کا حوالہ دیتے ہیں ۔ تب میں اس بات کا نہایت شائق ہوا کہ انجیل برنباس کو میں بھی دیکھوں اور اتفاقاً تقریب یہ نکل آئی کہ خدائے تعالیٰ کے فضل وکرم نے پوپ پنجم کا مجھ سے اتحاد و دوستانہ کرا دیا۔ ایک روز جبکہ پوپ موصوف کے کتب خانہ میں ہم دونوں اکٹھے تھے اور پوپ صاحب سو گئے تھے میں نے دل بہلانے کو ان کی کتابوں کا ملاحظہ کرنا شروع کیا سوسب سے پہلے جس کتاب پر میرا ہاتھ پڑا وہ وہی انجیل برنباس تھی جس کا میں متلاشی تھا۔ اس کے مل جانے سے مجھے نہایت درجہ کی خوشی پہنچی اور میں نے یہ نہ چاہا کہ ایسی نعمت کو آستین کے نیچے چھپا رکھوں۔ تب میں پوپ صاحب کے جاگنے پر ان سے رخصت ہو کر وہ آسمانی خزانہ اپنے ساتھ لے گیا جس کے پڑھنے سے مجھے دین اسلام نصیب ہوا۔ دیکھو صفحہ دہم سطر چهارم ترجمه قرآن شریف جارج سیل صاحب