سُرمہ چشم آریہ — Page 291
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۷۹ سرمه چشم آرید بزرگ نمونه اس انشقاق و اتصال کا وہ واقعہ شق قمر ہے جس کا قرآن شریف میں ذکر ہے (۲۳۱) سو جب کہ خورد نمونہ کو فلسفی لوگ خود مانتے ہیں تو بزرگ سے انکار کرنے کی کیا وجہ ہے اصل بات تو فلسفیوں کے طریق پر بھی ثابت ہے کہ قمر اور شمس کی جرم میں انشقاق اور اتصال دونوں ہوتے رہتے ہیں اسی بنا پر تو ان دونوں کرہ میں حیوانات کی آبادی تسلیم کی گئی ہے تو پھر یہ کیسا جاہلانہ سیاپا ہے کہ پر میشر شق قمر پر قادر نہیں ۔ علاوہ اس کے ہم نے تاریخی طور پر مضبوط ثبوت دے دیا ہے کہ ضرور شق القمر وقوع میں آیا۔ یہ بھی بیان کر دیا گیا کہ اگر قرآن شریف میں یہ معجزہ خلاف واقع لکھا جاتا اور خلاف واقعہ اس کی اشاعت ہوتی تو ہرگز ممکن نہ تھا کہ مخالفین جن کی نسبت گواہ رؤیت ہونے کا الزام لگایا گیا چپ رہتے ۔ ہم نے اس بحث میں یہ بھی لکھ دیا ہے کہ کتاب مہا بھارت جس کی تالیف بیاس کی طرف منسوب کی جاتی ہے اس بات پر گواہی دیتی ہے کہ ایک زمانہ میں شق قمر ضرور ہوا تھا۔ اب ناظرین اپنی عقل و انصاف سے سوچ لیں کہ کیا یہ ثبوت جو ہم نے دیئے ہیں کچھ کم ہیں کیا تاریخی واقعات کے ثابت کرنے والے اس سے بڑھ کر ثبوت دیا کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے آریوں کے اصول و عقائد پر اعتراض کیا ہے وہ بھی ناظرین کے آگے ہے۔ وید کی یہ تعلیم کہ خدائے تعالیٰ روحوں اور مواد کا خالق نہیں بقيه حاشیه کا ظہور فرمانا ہوا ایسا جلالی ظہور جس سے شیطان معہ اپنے تمام لشکروں کے ۲۳۱ بھاگ گیا اور اس کی تعلیمیں ذلیل اور حقیر ہو گئیں اور اس کے گروہ کو بڑی بھاری شکست آئی۔ اسی جامعیت تامہ کی وجہ سے سورۃ ال عمران جزو تیسری میں مفصل یہ بیان ہے کہ تمام نبیوں سے عہد و اقرار لیا گیا کہ تم پر واجب و لازم ہے کہ عظمت و جلالیت شان خاتم الرسل پر جو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ایمان لاؤ اور ان کی اس عظمت اور جلالیت کی اشاعت کرنے میں بدل و جان مدد