سُرمہ چشم آریہ — Page 290
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۷۸ سرمه چشم آرید ۲۳۰) سے دوسروں پر بھی اثر ڈال دیتے ہیں اس کے نمونے ارباب مکاشفات کے قصوں میں بہت پائے جاتے ہیں بعض اکابر نے اپنے وجود کو ایک وقت اور ایک آن میں مختلف ملکوں اور مکانوں میں دکھلا دیا ہے باذن اللہ تعالیٰ اور اس جگہ ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ حال کی فلسفی تحقیقا تمیں شہادت دے رہی ہیں کہ شق قمر نہ صرف ایک مرتبہ بلکہ مخفی طور پر یہ انشقاق و اتصال ہمیشہ شمس و قمر میں جاری ہے کیونکہ اس زمانہ کی فلاسفی اپنی مستحکم رائے ظاہر کرتی ہے کہ شمس و قمر میں ایسی ہی آبادی حیوانات و نباتات وغیرہ ہے جیسی زمین پر ہے اور یہ امر انشقاق واتصال قمری کو ثابت کرنے والا ہے کیونکہ یہ بات نہایت ظاہر ہے کہ جس کرہ میں حیوانات و نباتات وغیرہ پیدا ہوتے ہیں وہ اسی کرہ کا مادہ لے کر جسم پکڑتے ہیں یہ نہیں کہ کسی دوسرے کرہ سے گاڑیوں اور چھکڑوں پر وہ مادہ جاتا ہے اب جبکہ یہ ماننا پڑا کہ کرہ قمری میں جس قدر حیوانات اپنے حرکت ارادے سے چلنے والے موجود ہیں اور ہمیشہ پیدا ہوتے رہتے ہیں ان کا جسمی مادہ وہی ہے جو کسی وقت جرم قمر سے اتصال رکھتا تھا تو اس سے یہ بھی ماننا پڑا کہ جرم قمر کو ہمیشہ انشقاق لازم ہے اور پھر ان حیوانات کے مرجانے سے انشقاق کے بعد اتصال بھی لازم پڑا ہوا ہے تو اب اس تحقیق سے ظاہر ہے کہ اصل صورت انشقاق و اتصال کی ہر وقت قمر میں بلکہ شمس میں بھی موجود ہے ہاں ایک ۲۳۰ بقيه حاشیه بنی اسرائیل : ۸۲ آنا خدا کا آنا ہے چنانچہ قرآن شریف میں اس بارے میں ایک یہ آیت بھی ہے وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا - ل کہہ حق آیا اور باطل بھاگ گیا اور باطل نے بھا گنا ہی تھا ۔ حق سے مراد اس جگہ اللہ جل شانہ اور قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ اور باطل سے مراد شیطان اور شیطان کا گروہ اور شیطانی تعلیمیں ہیں سو دیکھو اپنے نام میں خدائے تعالی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کیونکر شامل کر لیا اور آنحضرت کا ظہور فرمانا خدا تعالیٰ