سُرمہ چشم آریہ — Page 284
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۷۲ سرمه چشم آرید (۲۲۳) مستلزم ہے تو خالقیت اس کی خود ثابت ہے۔ پھر بعد اس کے ماسٹر صاحب اپنی ایک اور دانائی دکھلاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ جب کہ پر میشر نے دنیا کا کل جوڑ نا جاڑنا کیا تو کیا وہ محیط نہ ہوا۔ اے ناظرین کیا تم اب بھی نہیں سمجھ سکتے کہ ماسٹر صاحب کس قدر عالم و فاضل ہیں۔ اے صاحب اگر آپ کا پر میشر معہ اپنے علم تام و قدرت کا ملہ کے جس سے وہ کسی حالت میں الگ نہیں ہو سکتا دنیا کی چیزوں پر احاطہ نام رکھتا اور ان کی کہنہ تک اس کا علم پہنچا ہوا ہوتا اور ان کے خواص کی کیفیت اور ان کی قوتوں کی اصل ماہیت انتہائی درجہ پر اس کو معلوم ہوتی تو اس کی قدرت پر یہ پتھر کیوں پڑتے کہ صرف جوڑ نے جاڑنے تک محدود رہتی۔ کیا انتہائی درجہ کا علم انتہائی درجہ سے عمل کو نہیں چاہتا؟ کیا دنیا میں کبھی کسی نے دیکھا یا سنا کہ جس درجہ پر علم ہے عمل اس درجہ تک نہیں پہنچ سکتا اب واضح رہے کہ ماسٹر صاحب کے اقوال فاسدہ کا خاتمہ بد اسی قول پر ہو گیا ہے جس کو ابھی ہم رد کر چکے ہیں۔ والحمدلله على مانصرنا واخزى اعدائنا وظهر الحق وهم كارهون۔ بقيه حاشیه مختصر تقریر بطور خلاصه مباحثہ ناظرین اس رسالہ کو پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں کہ ماسٹر مرلیدھر صاحب کا اعتراض شق القمر آئی آخر تنزلات وجود سے مراد ہے اجمالی طور پر احاطہ رکھتا ہے۔ ایسا ہی حل الوہیت ہونے کی وجہ سے مرتبہ الہیہ سے اس کو ایسی مشابہت ہے جیسے آئینہ کے عکس کو اپنے اصل سے ہوتی ہے۔ اور امہات صفات الہیہ یعنی حیواۃ علم ارادہ قدرت سمع بصر کلام مع اپنے جمیع فروع کے اتم و اکمل طور پر اس میں انعکاس پذیر ہیں۔ اس نقطہ مرکز کو جو برزخ بین اللہ و بین الخلق سے یعنی نفسی نقطہ حضرت سید نا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو مجر دکلمۃ اللہ کے مفہوم تک محدود نہیں