سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 277 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 277

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۶۵ سرمه چشم آریہ ہمارے نفع یا نقصان سے آپ کچھ تعلق نہ رکھیں تو یہ عرض ان کی ہرگز قبول نہیں ہوسکتی ۲۷ اگر چہ اس کے قبول کرانے کے لئے تمام عمر روتے پیٹتے رہیں پس اس سے صاف ثابت ہے کہ صرف یہی بات نہیں کہ بندہ اپنی حالت میں آزاد ہے اور اپنے لئے بندگی کرتا ہے اور پر میشر کو اس سے کچھ تعلق نہیں بلکہ جلال اور عظمت الہی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ بندہ شرط بندگی بجالا وے اور نیک راہوں کو اختیار کرے اور اس کی الوہیت بالطبع تقاضا کرتی ہے کہ اس کے آگے عبودیت کے آثار ظاہر ہوں اور اس کی کاملیت ذاتی جوش سے یہ چاہتی ہے کہ جو نقصان سے خالی نہیں ہے اس کے آگے تذلیل کرے یہی وجہ ہے کہ نافرمانوں اور سرکشوں اور ان سب کو جو شرارتوں پر ضد کرتے ہیں انجام کار اس کا عذاب پکڑتا ہے ورنہ اس بات پر کوئی وجہ قابل اطمینان پیدا نہیں ہوتی کہ بغیر پائے جانے کسی ذاتی قوت کے جو سزا جزا دینے کے لئے اس کی ذات بابرکات ازل سے رکھتی ہو کیوں خواہ نخواہ وہ اس فکر میں لگا رہتا ہے کہ نیکی کرنے والوں کو نیک پاداش اور بدی کرنے والوں کو بد پاداش پہنچا وے بلکہ اگر کوئی قوت ذاتی جو جزا سزا دینے کے لئے محرک ہو اس میں نہ پائی جاوے تو یہ چاہیے تھا کہ خاموشی اختیار رکھتا اور جزا سزا کی چھیڑ چھاڑ سے بکلی دست کش رہتا سو اگر چہ یہ بات تو صحیح ہے کہ انسان کے اعمال کا بقيه حاشیه وہ اپنے صعود اور نزول میں اتم و اکمل ہوا اور کمالات انتہائیہ تک پہنچ گیا اس لئے ۲۱۷ دو قوسوں کے بیچ میں یعنی وتر کی جگہ میں جو قطر دائرہ ہے اتم و اکمل طور پر اس کا مقام ہوا بلکہ وہ قوس الوہیت اور قوس عبودیت کی طرف اس سے بھی زیادہ تر جو خیال و گمان و قیاس میں نہیں آسکتا نزدیک ہوا مثلاً صورت اُن دو قوسوں کی یہ ہے۔ اس شکل میں جو مخط مرکز دائرہ کو قطع کرتا ہے یعنی جو قطر قوس اعلیٰ وجود قدیم قوس اعل وجودعات مکین دائرہ ہے وہی قاب قوسین یعنی دونوں قوسوں کا وتر ہے۔