سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 264 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 264

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۵۲ سرمه چشم آریہ ۲۰۴ نہیں نکالیں بلا شبہ نکالی ہیں اور اب تک ہر یک پیشہ اور کارخانہ کے متعلق ہزار ہا جدید صنعتیں نکالتے جاتے ہیں سو اگر ہندوؤں کے پرمیشر کا بھی اتنا ہی کام ہے کہ علم خواص ۲۰۴ اشیاء حاصل کر کے طرح طرح کی صنعتیں بمنصہ ظہور لاوے تو پھر ان لوگوں اور ایسے پر میشر میں صرف کمی بیشی علم کا فرق ہوگا اگر ان لوگوں کو وہ اعلیٰ قسم کا علم معلوم ہو جائے تو یہ بھی ایک طور کے پر میشر بن جائیں گے۔ قوله ۔ اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ خود بخود ہونے والا کام پر میشر کے کاموں سے بڑھ کر ہے تو اگر ایسا ہوا تو پر میشر کی اس میں کون سی ہتک ہوئی۔ اقول ۔ سچ ہے آپ کے پرمیشر کی عزت بڑی پکی ہے کسی قسم کی بہتک سے دور نہیں ہو سکتی ۔ یہ ہمیں آج ہی معلوم ہوا کہ آپ کا پرمیشر اس قسم کی درویشانہ سیرت رکھتا ہے کہ ۔ اگر چہ کروڑ ہا چیزیں اس کے کاموں اور صنعتوں سے بڑھ چڑھ کر ہوں تب بھی اس کو اپنی کسر شان کی کچھ پرواہ نہیں یہ خوب پرمیشر ہے اور آپ لوگوں کا وید بھی خوب اور وید و دیا اور اس کا گیان بھی جس پر اتنا ناز تھا خوب ہی نکلا ہزار ہاتھ کنواں کھودا آخر چشمہ آب کی جگہ ایک مری ہوئی مینڈک نکلی اگر پرمیشر اسی حیثیت اور کرتوت کا مالک ہے تو پھر بقيه حاشیه میں حاصل تھا وہ عالم مثال میں مشہود ومحسوس طور پر دکھایا گیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ اس نبی کریم کی شان رفیع کے بارہ میں فرماتا ہے وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَتِ ! پس اس رفع درجات سے وہی انتہائی درجہ کا ارتفاع مراد ہے جو ظاہری اور باطنی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے اور یہ وجود باجود جو خیر مجسم ہے مقربین کے تین قسموں سے اعلیٰ واکمل ہے جو الوہیت کا مظہر اتم کہلاتا ہے۔ جاننا چاہئے کہ قرب الہی کی تین قسمیں تین قسم کی تشبیہ پر موقوف ہیں جن کی البقرة : ۲۵۴