سُرمہ چشم آریہ — Page 263
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۵۱ سرمه چشم آرید بعد میں کہاں سے آگیا دنیا میں صد با صورتیں ایسی پائی جاتی ہیں کہ اول دو چیزوں (۲۰۳) میں کوئی خاصیت چھپی ہوئی موجود ہوتی ہے اور پھر ان دو چیزوں کے باہم ملا دینے سے وہی خاصیت بڑی تیزی اور شوخی سے ظاہر ہو جاتی ہے۔ دودواؤں کی ترکیب سے ایک نئے مزاج اور خاصہ کی دو انکل آتی ہے مگر در حقیقت وہ مزاج اور خاصہ کچھ نیا نہیں ہوتا بلکہ ان دونوں دواؤں میں الگ الگ طور پر مخفی ہوتا ہے۔ ایسا ہی دو رنگوں کے ملانے سے ایک نیا رنگ نکل آتا ہے مگر وہ در حقیقت نیا نہیں ہوتا بلکہ ان دونوں رنگوں میں اس حالت علیحدگی میں چھپا ہوا ہوتا ہے ایسا ہی دو مختلف مزہ کے طعام کو ملا کر تیسرا مزہ جو نیا دکھائی دیتا ہے نکل آتا ہے مگر وہ بھی در حقیقت نیا نہیں ہوتا۔ سو میں کہتا ہوں کہ اگر انہیں اجزاء متفرقہ و خواص متفرقہ کو ملا کر کوئی مشترک خاصہ پیدا کرنا جو حقیقت میں پہلے ہی مخفی تھا پر میشر ہونے کی نشانی ہے تو پھر آر یہ لوگ انگریزوں اور دوسرے یورپ کے صناع لوگوں کو کیوں سجدہ نہیں کرتے اور ان کو اپنا ایشر کیوں نہیں سمجھتے کیا ان لوگوں کے کام ایسے پر میشر کے مشابہ نہیں ہیں ۔ کیا ان لوگوں نے بھی ہندوؤں کے پر میشر کی طرح خواص متفرقہ اشیاء عالم پر اطلاع پا کر صد با صنعتیں بقيه حاشیه اور قلی طور پر ان سب کمالات خباثت کو حاصل کر لیتا ہے جو اصلی شیطان کو (۲۰۳) حاصل ہیں اسی طرح اولیاء الرحمن اور اولیاء الشیطان اپنی اپنی مناسبت کی وجہ سے الگ الگ طرف کھینچے چلے جاتے ہیں اور وجود خیر مجسم جس کا نفسی نقطہ انتہائی درجہ کمال ارتفاع پر واقع ہے یعنی حضرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اس کا مقام معراج خارجی جو منتہائے مقام عروج ( یعنی عرش رب العالمین ہے ) جتلا یا گیا ہے یہ در حقیقت اسی انتہائی درجہ کمال ارتفاع کی طرف اشارہ ہے جو أس وجود باجود کو حاصل ہے گویا جو کچھ اس وجود خیر مجسم کو عالم قضاء وقدر