سُرمہ چشم آریہ — Page 255
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۴۳ سرمه چشم آریہ بالکل نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اقول ۔ میں کہتا ہوں کہ جو خاصیتیں اور قوتیں باقرار ماسٹر صاحب روحوں میں ضرور موجود ہیں گو بزعم ان کے بیج کی طرح ہی سہی مگر وہ موجود ہو کر معدوم کے برابر کیوں ہیں اس کی وجہ بھی تو کوئی بیان کی ہوتی کیا وہ قوتیں اور خاصیتیں روحوں میں بے فائدہ طور پر ہیں جن کے وجود سے پر میشر کو جوڑنے جاڑنے کے وقت کچھ مدد نہیں ملی۔ ظاہر ہے کہ پر میشر کو ان خاصیتوں اور عجیب قوتوں سے جوڑنے جاڑنے کے وقت بڑی بھاری مددملی جس نے پر میشر کا نام رکھ لیا اور اس کا پر میشر پین ثابت کر دکھایا اور اگر وہ خاصیتیں روحوں میں نہ ہوتیں تو بتلاؤ کہ پر میٹر کر کیا سکتا تھا کون سی روحانی خاصیت اپنے گھر سے لاتا اور کیونکر ایک بے جان جسم کو ایک زندہ انسان بنا کر دکھلاتا بھلانگی نہاتی کیا اور نچوڑتی کیا۔ یہ تو روحوں کا اس پر سراسر احسان ہے جو بنے بنائے اور گھڑے گھڑائے معہ تمام اپنی عجیب خاصیتوں اور قوتوں کے اس کے ہاتھ آگئے قسمت اچھی تھی مفت کا نام ہو گیا پر میشر بن بیٹھا ور نہ غور کرنے والی عقلوں پر ظاہر ہے کہ جوڑ نا جاڑ نا بغیر ان عجیب خواص اور طاقتوں کے جو روحوں اور مادوں میں پائی جاتی ہیں کچھ چیز نہیں ہیں بلکہ اگر وہ خواص روحوں اور مادوں میں پائے نہ جاویں تو ممکن ہی نہیں کہ ہندوؤں کے پر میٹر سے جوڑنے جاڑنے کا کام بھی انجام پذیر ہو سکے مثلاً اگر جسموں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں ایک بقيه حاشیه ۱۹۵ اب جب کہ ہم نے ہر طرح سے ثبوت پا کر بلکہ بہ بداہت دیکھ کر خدائے تعالی ۱۹۵ کے اس قانون قدرت کو مان لیا کہ اس کے تمام کام کیا روحانی اور کیا جسمانی پریشان اور مختلف طور پر نہیں ہیں جن میں یوں ہی گڑ بڑ پڑا ہو بلکہ ایک حکیمانہ ترتیب سے مرتب اور ایک ایسے با قاعدہ سلسلہ میں بندھے ہوئے ہیں جو ایک ادنی درجہ سے شروع ہو کر انتہائی درجہ تک پہنچتا ہے اور یہی طریق