سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 254 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 254

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۴۲ سرمه چشم آریہ الہام نہیں پاسکتا تو یہ عجیب او باشانہ کاروائی ہے بھلا اگر کوئی ان چار رشیوں کی پیروی سے ان کا رنگ و بوئے حاصل نہیں کر سکتا تو پھر ایک عظمند ویدوں کے ماننے اور ان پر عمل کرنے میں کیوں ناحق کی ٹکریں مارے یہ کس قسم کی رندانہ حرکت ہے جو ہندوؤں کے پرمیشر سے ظہور میں آئی کہ اول چار رشیوں کو نمونہ کے طور پر بھیجا تا لوگ اس نمونہ کے موافق چل کر ان رشیوں کے ہمرنگ ہو جا ئیں اور وہی نعمت حاصل کر لیں جو ان کو دی گئی تھی اور پھر دوسری طرف یہ بھی سنا دیا کہ یہ بات ہر گز ممکن ہی نہیں کہ کوئی شخص ان رشیوں کے رنگ میں آکر الہام پانے کا لائق ٹھہر جائے۔ ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ اگر وید کمال مطلوب تک کسی کو نہیں پہنچا سکتے تو پھر ان کا بھیجا جانا بالکل عبث اور بیہودہ ہوا اور بجز اس بداثر کے کہ کروڑ ہا آدمیوں کو ان کی پر شرک تعلیم نے مشرک بنادیا اور کون سا نیک ثمرہ ہے جو ان کے آنے سے مترتب ہوا اور وہ چار آدمی جن پر آریوں کے خیال میں وید نازل ہوئے وہ بھی درحقیقت ویدوں کے ممنون احسان نہیں ہو سکتے بلکہ وہ بقول آریہ لوگوں کے کسی پہلے جنم کے اعمال کے باعث الہام پانے کے لائق ٹھہر گئے تھے۔ قوله - ربا باقی دوسری صفات کا ذکر بے شک وہ جیو میں بیج کی طرح موجود ہیں جو بغیر خدائے تعالیٰ کی کاریگریوں کے (جن کا مرزا صاحب جوڑنا جاڑنا نام رکھتے ہیں) بقيه حاشیه کیونکہ خدائے تعالی کے کام یک رنگ اور یکساں ہیں اس لئے کہ وہ واحد ہے اور اپنے اصدار افعال میں وحدت کو دوست رکھتا ہے پریشانی اور اختلاف اس کے کاموں میں راہ نہیں پاسکتا اور خود یہ کیا ہی پیارا اور موزوں طریق معلوم ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ کے کام باقاعدہ اور ایک ترتیب سے مرتب اور ایک سلک میں منسلک ہوں ۔