سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 253 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 253

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۴۱ سرمه چشم آرید کے موافق ویدوں پر چلنے سے اپنے وجودوں کو بنالیں تو ایسے رشیوں کے بھیجنے کی ضرورت (۱۹۳) ہی کیا تھی یہ بات ظاہر ہے کہ خدائے تعالیٰ کی کتابیں اور خدائے تعالیٰ کے نبی اسی غرض اور مدعا سے آیا کرتے ہیں کہ تا وہ لوگوں کی آنکھوں کے سامنے نمونہ کی طرح ہو کر ان کو یہ ترغیب و تحریک دیں کہ جو شخص ان کے نقش قدم پر چلے اور ان کے طریق میں محو ہو جائے وہ آخر انہیں کا روپ ہو جائے گا اور انہیں کے رنگ میں آ جائے گالیکن اگر ہندوؤں کے پر میشر نے ایسا ارادہ ہی نہیں کیا کہ ان چار رشیوں کے رنگ سے جو نمونہ کے طور پر بھیجے گئے تھے کوئی طالب حق رنگین ہو جائے تو پھر یہ کام ان کے پرمیشر کا سراسر بیہودہ اور فضول ہو گا۔ اس جگہ اس سوال کے کرنے کی کچھ ضرورت نہیں کہ اگر ہندوؤں کے پر میشر نے ویدوں کو تحمیل نفوس ناقصہ کے لئے بھیجا تھا تو ویدوں نے نازل ہو کر کس قدر خلقت کو کمال کے درجہ تک پہنچایا ہے کیونکہ اس بارے میں ہندو لوگ آپ ہی قائل ہیں کہ کسی شخص کو ویدوں نے مرتبہ کمال تک نہیں پہنچایا۔ ظاہر ہے کہ کیفیت و حقیقت کمال کی ہندوؤں کے پرمیشر کے نزدیک بھی وہی ہے جس کا نمونہ اس نے ویدوں کے رشیوں میں قائم کیا تھا اور وہ یہی ہے کہ بزعم آریہ لوگوں کے ان رشیوں کو الہام الہی سے سرفراز فرمایا گیا اب جب کہ کمال معرفت کی حقیقت یہ ٹھہری اور دوسری طرف ان کے پر میشر نے یہ بھی صاف صاف سنا دیا کہ کوئی شخص ابد الا باد تک بجز چار رشیوں کے بقيه حاشیه پیدا کیا ہے کہ طرف ارتفاع میں اس کے برابر کوئی دوسرا ایسا وجود نہیں ہے (۱۹۳) سو اس سلسلہ کے ارتفاع اور انحصاض پر نظر ڈال کر جو ہر وقت ہماری آنکھوں کے سامنے ہے روحانی سلسلہ جو اسی ہاتھ سے نکلا ہے اور اسی عادت اللہ سے ظہور پذیر ہوا ہے خود بلا تامل سمجھ میں آتا ہے کہ وہ بھی بلا تفاوت اسی طرح واقعہ ہے اور یہی ارتفاع اور انحصاض اس میں بھی موجود ہے