سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 241 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 241

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۲۹ سرمه چشم آریه شخص نرا جاہل اور عقل سے بیگانہ نہ ہو تب تک اس ص ، اس صداقت میں کچھ شک نہیں کر سکتا۔ اس ۱۸۱ جگہ کم سے کم آریہ صاحبوں کو اس قدر اقرار تو ضرور کرنا پڑے گا کہ جس قدر ان کے پرمیشر کو اپنے ہاتھ کے کام کی ۔ جو جوڑنا جاڑنا ہے ہے ا اندرونی حقیقت معلوم ہے یہ حقیقت روحو کی کیفیت وجود کی نسبت جن سے وہ بالکل بے تعلق ہے ہرگز اس کو حاصل نہیں ہو سکتی کیونکہ جو کام اپنے ہاتھ سے کیا جاتا ہے اس کے جزئیات دقیقہ ہرگز مخفی نہیں رہ سکتے لیکن جو کام اپنے ہاتھ سے نہ کیا جائے اس کو اگرچہ دوسرے کے ہاتھ سے ہوتے بھی دیکھ لیں تب بھی اس کا کرنا مشکل ہوتا ہے لیکن وید کے مصنف کو روحوں کی حقیقت اور ان کے خواص کیونکر معلوم ہو سکیں اس نے نہ تو آپ کوئی روح بنائی اور نہ کسی اور کاریگر کو بناتے دیکھا پس ہندوؤں کے پرمیشر کا یہ اقرار کہ میں روح بنانے پر قادر نہیں صاف اس دوسرے اقرار پر بھی مشتمل ہے کہ روحوں کی اندرونی حقیقت بھی مجھے معلوم نہیں کیونکہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں کہ کسی چیز کی نسبت علم کامل اور وسیع اس چیز کے بنانے پر قادر ہونے کا موجب ہے یعنے جب کسی چیز کی حقیقت پر علم اکمل و اتم حاصل ہو جائے اور جن امور سے ایک چیز کا وجود ظہور پذیر ہے ان امور مخفیہ پر اطلاع کلی ہو جائے تو ساتھ ہی اس چیز کے بنانے پر بھی قدرت حاصل ہوتی ہے چنانچہ خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں روحوں کی مخلوقیت پر منجملہ اور دلائل کے یہ دلیل بھی پیش کی ہے اور یہ بات بالکل صاف اور ظاہر ہے کہ کسی چیز کے بنانے سے عاجز ہونا ہمیشہ بوجہ نقصان علم ہوا کرتا ہے جب تم ایک چیز کی نسبت پورا پورا علم حاصل کر لو گے اور اس کی کنبہ تک پہنچ جاؤ گے اور کوئی حجاب درمیان باقی نہیں رہے گا تو فی الفور تم اس کے بنانے پر قادر ہو جاؤ گے اور اگر وہ اسباب تمہیں میسر آجائیں گے جو بنانے کے لئے ضروری ہیں تو بلا شبہ وہ چیز تم اپنے ہاتھ سے بنا سکو گے ہاں جب تک تمہارے علم میں کچھ نقصان ہے اور ہنوز ایسے امور بھی باقی ہیں جو تمہاری