سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 237 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 237

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۲۵ سرمه چشم آریہ کے موافق ہے کہ ہر یک پاک دل آدمی بلاتر ڈو اس کے شہادت اپنے دل میں پاتا (۱۷۷) ہے اور خود ہندو لوگ بھی ہرگز پسند نہیں کرتے کہ ان کا پر میشر ایسے نقصانوں میں مبتلا ہو مجھے یاد ہے کہ ہوشیار پور کے بحث میں جب میں نے لوگوں کو سنایا کہ آریہ سماج والوں کا یہ اعتقاد ہے کہ ان کا پر میشر روحوں کے پیدا کرنے سے عاجز ہے تو کئی معزز ہند و جو میرے پاس بیٹھے تھے وہ یہ سن کر تو بہ تو بہ کرنے لگ گئے کہ یہ کیسا خراب بقيه حاشیه تو اسے کیا ہوگا بلکہ محدود چیزوں میں سے وہ بھی ایک چیز ہوگی جس کا کوئی ۷۷ ) اور محدد تلاش کرنا پڑے گا۔ اور یہ بھی واضح رہے کہ جو چیز غیر مخلوق فرض کی جائے اس کی نسبت یہ تو ہم پہلے ہی بیان کر چکے ہیں کہ خدائے تعالیٰ کو اس چیز کا علم نام جو اس سے الگ اور غیر مخلوق اور قدیم ہے کسی طور سے نہیں ہو سکتا اور با ایں ہمہ اس چیز کے نفس وجود پر نظر ڈالنے سے اس قدر بھی لازم نہیں آتا کہ خواہ مخواہ کسی درجہ کا ناقص علم بھی اس کے بارہ میں خدائے تعالیٰ کو حاصل ہوا اور کوئی دلیل اس بات پر قائم نہیں ہوسکتی کہ کیوں حاصل ہو ہاں جو چیز ممکن اور حادث اور مسبوق بعدم ذاتی ہے وہ ضرور ہے کہ خدائے تعالیٰ کو معلوم ہوا اور علم الہی سے باہر نہ ہو کیونکہ جو چیز نا معلوم ہے عطائے وجوداس کے لئے ممکن نہیں پس علم ممکنات قبل وجود ممکنات خدائے تعالی کے لئے ہونا ضروری ہے اور اس سے بالضرور ثابت ہے کہ ممکنات با سر ہا معلومات الہیہ میں داخل ہیں لیکن جس چیز کو ممکن اور حادث اور مسبوق بعدم ذاتی تسلیم نہ کیا جائے اور ذات علت العلل کا اس کو معلول اور محاط نہ ٹھہرایا جائے ، اس پر کوئی برہان عقلی قائم نہیں ہو سکتی کہ کیوں وہ علم الہی سے باہر نہیں ۔ مثلاً اگر روح کو مخلوق اور حادث تسلیم نہ کیا جائے تو اس بات کے