سُرمہ چشم آریہ — Page 231
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۱۹ سرمه چشم آریه ہیں جس کی ایجاد کے بغیر کوئی چیز موجود نہیں ہوئی اور وہ تمام عالمین کا رب اور پیدا کنندہ اے ا ہے پس اسی آیت شریفہ کے مطابق نانک صاحب کا شبد ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ جو بزرگی اور عظمت اور قدرت خدائے تعالیٰ کو چاہئے وہ سب اسے حاصل ہے۔اے نانک جو اس بات کو جانتا ہے وہی صادق ہے۔ افسوس اس بات کو دید کیوں نہیں جانتا آ ر یہ لوگ کیوں نہیں جانتے دیانند صاحب کیوں جانے بغیر کوچ کر گئے ۔ یہ ظاہر ہے کہ پیدا کرنا اور محض اپنی قدرت سے وجود بخشنا ایک کمال ہے جو بڑی تعریف کے لائق ہے اور خدا وہ ہونا چاہیے جس میں سب کمالات اور سب تعریف کی باتیں پائی جائیں مگر وید کے پرمیشر پر یہ کیا مصیبت نازل ہوئی کہ وہ اس بھاری درجہ کے کمال سے کہ جو تمام کارخانہ خدائی کی کنجی ہے بے نصیب رہ گیا۔ دیکھواے کیسوں والے آریو ! جونا تک صاحب کے چیلہ ہونے کا دعویٰی کرتے ہو کہ نا تک صاحب صاف قرآنی آیت کی تصدیق کر کے کہتے ہیں کہ صادق وہی ہے کہ جوان سب بزرگیوں اور تعریفوں کا قائل ہے کہ جو خدائے تعالیٰ کو اپنے کمال تام کے لئے مطلوب ہیں ورنہ جھوٹا اور دروغگو ہے۔ سو تم اب تو وید کا پیچھا چھوڑو کہ تمہارے گورو صاحب پکار پکار کر کہہ رہے ہیں اور اپنے شہد تمہیں سنا رہے ہیں اور پھر دیکھو کہ وہ مخالفوں پر ناراض ہو کر آگے کیا فرماتے ہیں ۔ جے کو آکھے بول بگاڑ ۔ تا لکھی سر جے کو آکھے بول بگاڑ ۔ تالکھی سرگواراں گوار۔ یعنی اگر کوئی یہ بات تسلیم نہ کرے اور اس کا مخالف کچھ منہ پر لاوے تو اس کو جاہلوں کا سردار لکھنا چاہیے۔اے نانک صاحب آپ کہاں اور کدھر ہو اب تو آپ ہی کے چیلے آریہ سماج میں بیٹھ کر بول بگاڑ رہے ہیں اور صاف کہہ رہے ہیں کہ دنیا کا کوئی پیدا کرنے والا نہیں بلکہ وہ تو وید کی شرتیوں کو سچ مچ درست سمجھ کر خدائے تعالیٰ کا خالق اور رب العالمین ہونا غیر ممکن سمجھتے ہیں اور اگر کسی کے منہ سے بھولے سے یہ نکل بھی جائے کہ میری روح کا رب اور پیدا کنندہ پر میشر ہے تو اس کو مہان پاپی خیال کرتے ہیں اور اپنے پر میشر کو صرف اس قدر