سُرمہ چشم آریہ — Page 225
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۱۳ سرمه چشم آرید پوجا کرتے تھے اور اگنی کے آگے ہاتھ جوڑتے تھے اور ہندوستان کے تمام عجائبات کو ۱۶۵ معبود بنا رکھا تھا اب وید کا نیک وقت شاید اس زمانہ میں آوے کہ جب پھر لوگ ویسی ہی موٹی عقل کے ہو جائیں کہ جیسے وہ وید کے زمانہ میں تھے مگر پھر اس تنگ و تاریک حالت کی طرف زمانہ کا پلٹا کھانا قرین قیاس نہیں معلوم ہوتا اس زمانہ میں بڑے بڑے بوڑھے پنڈت یہ خیال کرتے تھے کہ کوہ ہمالہ کے پرے اور کوئی ملک ہی نہیں بقيه حاشیه مخلوق کی نسبت خالق کا اعلیٰ ہونا لازم ہے اور جب کہ ہم اُسی ذاتِ اکمل و اتم کو خدا کہتے ہیں جس سے اعلیٰ کوئی نہیں تو اس کو خود بخود ماننا پڑا غرض انتہائی درجہ کا کامل خیال کرنا تحقق خدائی کے لئے واجب ہے اور انتہائی درجہ کے کمال کو خود بخود ہونا لازم پڑا ہوا ہے۔ یہ قاعدہ کہ ہم پر حکمت چیز کو دیکھ کر جس میں طرح طرح کی عجائب صفتیں پائی جاتی ہیں ایک صانع حکیم کا ایجاد اس کو سمجھتے ہیں یہ تو ان اشیاء عالم سے متعلق ہے جن کا ناقص ہونا اول ہم ثابت کر لیتے ہیں اور جن کا محدود اور مقید ہونا اور اپنی تکمیل ذات کے لئے غیر کی طرف محتاج ہونا دلائل کاشفہ سے ہم پر کھل جاتا ہے تب جو جو کاریگری کے کام ایسے ناقص وجودوں میں پائے جاتے ہیں ان کی نسبت بطور یقین اور قطع کے ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ ان عجائب کاموں کا کرنے والا ضرور در پردہ موجود ہے جو قادر و حکیم و کامل ہے اور یہ بھی ہر ایک پر واضح ہے کہ ہم عالم کی چیزوں میں سے جتنی چیزوں کے وجود پر نظر ڈال کر ایک موجد کامل و قادر کا انہیں محتاج پاتے ہیں یا ان کی نسبت حکم صادر کرتے ہیں کہ ان موجودات کا کوئی موجد چاہیے وہ سب ایسی چیزیں ہیں جو کسی نہ کسی طور سے بلا واسطہ وسائل دیگر ہماری نظر اور فکر کے آگے محسوس اور معلوم الوجود ہوتے ہیں بجز ایک ذات پر ور دگار جل شانہ کے جو ہم اس کے وجود کو بغیر ذریعہ وحی یا مصنوعات کے جو اپنے صانع پر دلالت کرتے ہیں