سُرمہ چشم آریہ — Page 212
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۰۰ سرمه چشم آریہ (۱۵۲) لینا کوئی بڑی بات نہیں انسانوں میں سے بھی تو صناع لوگ اپنے علم خواص کے مطابق طرح طرح کی ترکیبیں اور صنعتیں نکالتے رہتے ہیں یہاں صرف اتنا فرق ہے کہ جس کو علم خواص اشیاء زیادہ ہوا اس نے زیادہ تر کیبیں نکالیں اور جس کو کم ہوا اس نے کم نکالیں بہر حال بنی آدم نے بھی بلا شبہ حیرت ناک کام کر دکھائے ہیں اور جہاں کہیں ان کو کوئی خاصہ جدیدہ اشیاء مادی اور ان کی اشکال و اوضاع یا ان کے باہم اختلاط و امتزاج کا مل گیا ہے وہیں انہوں نے اسی ذریعہ سے کوئی کل یا آلہ بنا ڈالا ہے چنانچہ سارا جہان انسان کی عجیب عجیب دستکاریوں سے بھرا ہوا نظر آتا ہے اگر تم گھر میں بیٹھے ہوئے اپنے گھر کی تمام ضروریات و اسباب خانہ داری پر نظر ڈالو اور جائیداد غیر منقولہ سے لے کر ایک ایک چیز منقولہ پر نظر اٹھا کر دیکھو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ وہ سب چیزیں جو تمہارے امور معیشت میں کام آتی ہیں انسان کی دستکاریاں ہیں۔ ایسا ہی بڑی و بحری سفروں میں جو کچھ انسان نے اپنی فکر وغور سے حاشیه اب تک دانشمند لوگوں نے کچھ کچھ خواص ارواح و خواص اجسام و اوضاع پر اطلاع پا کر اور علوم طبعی و ہندسہ سے مدد لے کر صد با عمدہ عمدہ شکلیں و ترکیبیں نکالی ہیں اور جیسے جیسے انسان کا علم وسیع ہوتا جاتا ہے ویسے ویسے وہ صنعت سازی میں یدطولیٰ حاصل کرتا جاتا ہے۔ ریل کا بخاری طاقت سے چلانا تار کا بنانا چھا پہ کی ترکیبیں ایجاد کرنا کیسی کیسی مفید صنعتیں ہیں جن سے گویا تمام بنی آدم کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ ایسا ہی انسان نے دوسرے چھوٹے چھوٹے کاموں میں صد ہا طور کی کلیس ایجاد کرلی ہیں ہر قسم کی عمدہ عمدہ گھڑیاں جو خود بخود وقت بتلاتی ہیں۔ سینے کی مشین ۔ آٹا پینے کی کل ۔ کپڑا بننے کی کھلیں۔ برف بنانے کی کل ۔ دودھ میں پانی کی آمیزش شناخت کرنے کا آلہ ۔ بجلی کا صندوقچہ ۔ خود بخود چلنے والا پنکھا۔ طاؤس جو چابی دینے سے مثل زندوں کے چلتا اور پھرتا اور ناچتا ہے ۔ مرغی کرک جو کنجی دینے سے چلتی ہے۔ بکر او کتا جو کنجی دینے سے چلتا ہے ۔ باجہ دار کرسیاں جن کو کنجی دینے