سُرمہ چشم آریہ — Page 211
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۹۹ سرمه چشم آریہ کی ضرورت ثابت ہوتی ہے لیکن جب آپ کی خدمت میں یہ عرض کیا جاتا ہے کہ وہی ۱۵۱ بے نظیری اور انسانی طاقتوں سے بالاتر ہونا ان عجائبات قدرت میں بھی پایا جاتا ہے جو روحوں میں ہیں تو تب آپ اس طرف سے منہ پھیر لیتے ہیں اب کوئی آپ کی اس سمجھ پر رووے یا ہنسے کہ آپ دو چیزوں کے مشترک استحقاق کو دیکھ کر ایک چیز کو پر میشر کی مصنوعیت سے باہر رکھ لیتے ہیں اور دوسری چیز کو جو ایک ادنیٰ اور عارضی کام ہے اپنے پر میشر پر تھا پتے ہیں مگر ایسا کبھی نہیں ہو سکتا اور کسی طور کی حجت آپ کے اس مطلب کی تائید نہیں کر سکتی کہ تمام عالم میں سے آدھا دھڑ خود بخود اور آدھا پر میشر کا محتاج ہے۔ اور یہ جو میں نے ابھی لکھا ہے کہ اجسام کو جوڑنا جاڑنا ایک ادنیٰ کام ہے یہ میں نے اس لئے لکھا کہ درحقیقت جوڑنے جاڑنے سے کوئی نئی خوبی حاصل نہیں ہوتی بلکہ وہی خواص ارواح و اجسام جو روحوں اور جسموں میں چھپے ہوئے تھے کھلے کھلے طور پر نظر آ جاتے ہیں جیسے ایک تصویر کو جب ایک مصفا شیشہ کے اندر رکھا جائے تو نہایت صفائی اور خوبی سے نقوش اس تصویر کے ظاہر ہو جاتے ہیں سو یہ بات ہر گز نہیں ہے کہ تصویر کو آئینہ میں رکھنے سے خود آئینہ کوئی ایسا نقش اس میں زیادہ کر دیتا ہے جو پہلے اس میں موجود نہ تھا بلکہ وہی نقوش جو پہلی تصویر میں موجود تھے اور مصوّر کے ہاتھ سے نکلے تھے انہیں کو آئینہ نہایت عمدگی اور صفائی سے نمایاں کر دیتا ہے سو میں کہتا ہوں کہ اگر اجزاء صغار اجسام میں بطور خود وہ کشش اتصال کی خاصیت نہ ہوتی جس سے وہ اکٹھے رہ سکتے ہیں تو آپ کا پر میشر جو خالق اشیاء و خواص اشیاء نہیں ہے کیا کر سکتا تھا اور اگر آفتاب کے باریک ٹکڑوں میں جو بقول آپ کے خود بخود ہیں اپنی ذات میں ہی روشن ہونے کی خاصیت نہ پائی جاتی تو کیونکر اور کسی قوت سے پر میشر ان سب کو اکٹھا کر کے نیر اعظم بنالیتا۔ سو جاننا چاہیے کہ اگر خدائے تعالی میں ایجادی قدرت نہیں یعنی اس نے تمام چیزوں اور ان کے خواص کو عدم محض سے پیدا نہیں کیا تو صرف بعض بعض ترکیبیں نکال کر خواص موجودہ سابقہ سے کام