سُرمہ چشم آریہ — Page 186
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۷۴ سرمه چشم آرید (۲۲) تمہاری عقلیں بھی دریافت کر سکتی ہیں ۔ اس کھلے کھلے مطلب کے سمجھنے میں ماسٹر صاحب نے کتنی بڑی غلطی کھائی ہے اور یہ سمجھ بیٹھے کہ گویا یہ خطاب لاعلمی کیفیت روح کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے لا حول ولا قوۃ پتھر پڑیں ایسی سمجھ پر کاش ماسٹر صاحب نے کچھ تھوڑی سی عربی پڑھی ہوتی یا کچھ تھوڑ اسا قاعدہ نحو صرف کا ہی دیکھا ہوتا اے صاحب ذرا آنکھ کھول کر دیکھو کہ روح کی کیفیت پوچھنے والے کون لوگ تھے ۔ وہ تو آپ کے ہی بھائی بند یعنی منکرین دین اسلام تھے انہیں کو تو یہ جواب دیا گیا تھا کہ روح عالم امر میں سے ہے اور تم ان الہی بھیدوں کو اے کا فرو کیا جانو ایمان لاؤ تا تمہیں روح کی کیفیت اور اس کے علوم معلوم ہوں اور یہ جو خدائے تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ روح عالم امر میں سے ہے جس پر ماسٹر صاحب نے اپنی خوش فہمی سے جھٹ پٹ اعتراض بھی کر دیا یہ ایک بڑی بھاری صداقت کا بیان ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ ربوبیتِ الہی دو طور سے نا پیدا چیزوں کو پیدا کرتی ہے اور بقيه حاشیه کے لئے سیدھا راہ سمجھنے کا یہی ہے کہ خدائے تعالیٰ نے جو کچھ پیدا کرنا چاہا وہ ہو گیا اور سب کچھ اسی کا پیدا کردہ اور اسی کی مخلوق اور اسی کے دست قدرت سے نکلا ہوا ہے لیکن عارفوں پر کشفی طور سے بعد مجاہدات یہ کیفیت حدوث کھل جاتی ہے اور نظر کشفی میں کچھ ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام ارواح و اجسام کلمات اللہ ہی ہیں جو بحکمت کا ملہ الہی پیرا یہ حدوث و مخلوقیت سے متلبس ہو گئے ہیں مگر اصل محکم جس پر قدم مارنا اور قائم رہنا ضروری ہے یہ ہے کہ ان کشفیات و معقولات سے قدر مشترک لیا جائے یعنی یہ کہ خدائے تعالیٰ ہر یک چیز کا خالق اور محدث ہے اور کوئی چیز کیا ارواح اور کیا اجسام بغیر اس کے ظہور پذیر نہیں ہوئی اور نہ ہو سکتی ہے کیونکہ کلام الہی کی عبارت اس جگہ در حقیقت زوالوجوہ ہے اور جس قدر قطع اور یقین کے طور پر قرآن شریف ہدایت کرتا ہے وہ یہی ہے کہ ہر یک چیز خدائے تعالی سے ظہور پذیر و وجود پذیر