سُرمہ چشم آریہ — Page 185
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۷۳ سرمه چشم آریہ ہیں اور صاف صاف عبارت سے نکلتے ہیں یہی ہیں کہ اے محمد کفار تجھ سے روح کی ۱۲۵ کیفیت پوچھتے ہیں کہ روح کیا چیز ہے اور کس چیز سے پیدا ہوئی ہے سوان کو کہہ دے کہ روح امر ربی ہے یعنی عالم امر میں سے ہے اور تم اے کا فرو کیا جانو کہ روح کیا چیز ہے کیونکہ علم روح حاصل کرنے کے لئے ایماندار اور عارف باللہ ہونا ضروری ہے مگر ان باتوں میں سے تم میں کوئی بھی بات نہیں۔ اب ہر ایک منصف سمجھ سکتا ہے کہ نادانی اور شتاب کاری کی آمیزش سے کیا کیا ندامتیں اٹھانی پڑتی ہیں ۔ غور کرنا چاہیے کہ ان آیات شریفہ متذکرہ بالا کا کیسا مطلب صاف صاف تھا کہ کفار کی ایک جماعت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کے بارے میں سوال کیا کہ روح کیا چیز ہے تب ایسی جماعت کو جیسا کہ صورت موجودہ تھی بصیغہ جمع مخاطب کر کے جواب دیا گیا کہ روح عالم امر میں سے ہے یعنی کلمۃ اللہ یا ظل کلمہ ہے جو بحکمت و قدرت الہی روح کی شکل پر وجود پذیر ہو گیا ہے اور اس کو خدائی سے کچھ حصہ نہیں بلکہ وہ در حقیقت حادث اور بندہ خدا ہے اور یہ قدرت زبانی کا ایک بھید دقیق ہے جس کو تم اے کا فرد سمجھ نہیں سکتے مگر کچھ تھوڑا سا جس کی وجہ سے تم مکلف بایمان ہو۔ حاشیہ یہ ایک ستر ربوبیت ہے جو کلمات اللہ سے مخلوقات الہی پیدا ہو جاتی ہے اس کو اپنی اپنی سمجھ کے موافق ہر یک شخص ذہن نشین کر سکتا ہے چاہے اس طرح سمجھ نے کہ مخلوقات کلمات الہی کے اخلال و آثار ہیں یا ایسا سمجھ سکتا ہے کہ خود کلمات الہی ہی ہیں جو بقدرت الہی مخلوقیت کے رنگ میں آجاتے ہیں کلام الہی کی عبارت ان دونوں معنے کے سمجھنے کے لئے وسیع ہے اور بعض مواضع قرآن کی ظاہر عبارت میں مخلوقات کا نام کلمات اللہ رکھا گیا ہے جو تجلیات ربوبیت سے بقدرت الهی لوازم و خواص جدیدہ حاصل کر کے حدوث کے کامل رنگ سے رنگین ہو گئے ہیں اور درحقیقت یہ ایک سران اسرار خالقیت میں سے ہے جو عقل کے چرخ پر چڑھا کر اچھی طرح سمجھ میں نہیں آ سکتے اور عوام